پاکستان-بھارت تعلقات پر نئی کتاب کی رونمائی

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) 8 ستمبر 2025 کو اسلام آباد میں ایک کتاب کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں ’’Pakistan-India Relations – Fractured Past, Uncertain Future‘‘ کے عنوان سے نئی کتاب کا جائزہ پیش کیا گیا۔ یہ کتاب سابق سفیر اعزاز احمد چوہدری کی تصنیف ہے جو پاکستان-بھارت تعلقات کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو زیادہ تر عدم اعتماد نے متاثر کیا ہے، نہ کہ بامعنی تعاون نے۔ سفیر اعزاز احمد چوہدری اپنے سفارتی کیریئر کے دوران پاکستان-بھارت امن عمل سے قریبی وابستگی رکھتے رہے ہیں۔ اس تقریب کا انعقاد انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اسلام آباد اور سانوبَر انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد نے مشترکہ طور پر کیا۔

کتاب متعارف کراتے ہوئے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے حاضرین کو بتایا کہ اس کتاب میں بنیادی سوال اٹھایا گیا ہے: کیا اچھے ہمسایہ تعلقات کے قیام میں ناکامی کا سبب حل طلب تنازعات ہیں یا اس کے پیچھے کوئی بڑی حرکیات کارفرما ہیں؟ کتاب میں بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل سے انکار، دہشت گردی کے مسئلے کی سیاسی رنگ میں پیش کش، اور خطے میں بالادستی کے عزائم کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں یہ کتاب ماضی کی غلطیوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے اور اس امکان کا جائزہ لیتی ہے کہ آیا جنوبی ایشیا کے لیے کوئی بہتر اور زیادہ امید افزا مستقبل ممکن ہے۔

تقریب کی نمایاں جھلک وفاقی وزیر اطلاعات جناب عطا تارڑ کا خطاب تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی بھرپور کوششوں کے باوجود تعلقات عدم اعتماد میں جکڑے رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ بھارت کے خطے میں بالادستی کے عزائم ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مئی 2025 میں بھارت کی فوجی جارحیت کا پاکستان نے مؤثر جواب دیا اور واضح پیغام دیا کہ جنوبی ایشیا میں امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب حل طلب تنازعات کو خلوصِ نیت سے حل کیا جائے اور تمام ہمسایے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے باہمی احترام کے اصول پر عمل کریں۔ وزیر اطلاعات نے مصنف کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے لیے خطے کی کشیدگی کے اسباب اور امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

صدر انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، سفیر جوہر سلیم نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے باوجود تعاون کی راہیں کھلی رہنی چاہئیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کو سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن اور تعاون کے راستے اپنانے چاہئیں۔ انہوں نے بھارتی قیادت پر زور دیا کہ وہ صفر جمعی سوچ (zero-sum thinking) کو ترک کرے اور ایسے فریم ورک کی طرف بڑھے جو باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کے مواقع فراہم کرے۔ ان کے مطابق ایسا رویہ خطے میں استحکام اور طویل المدتی خوشحالی کا ضامن ہو سکتا ہے۔

سابق وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر نے اپنے خیالات میں کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک بھارت کی جارحانہ پالیسیوں اور دشمنی کا سامنا رہا ہے۔ دونوں ممالک جنگوں سے گزرے اور امن عمل بھی چلائے گئے، لیکن پُرامن بقائے باہمی ہمیشہ نایاب رہی۔ انہوں نے اس صورتحال کا سبب بھارت کی مستقل خطے پر بالادستی کی خواہش کو قرار دیا، جس کی تازہ جھلک رواں برس مئی میں نظر آئی۔ ان کے مطابق نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے قومی سلامتی اور شناخت پر مبنی بیانیوں کو ماضی سے کہیں زیادہ شدت سے آگے بڑھایا ہے، اور پاکستان کو اکثر بھارت کی داخلی سیاست میں منفی طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف سفارتی روابط پیچیدہ ہوئے ہیں بلکہ دونوں ایٹمی ریاستوں کے درمیان کشیدگی بھی بڑھی ہے۔

صدر پاکستان کے ترجمان جناب مرتضیٰ سولنگی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تصنیف ’’The War that Changed Everything‘‘ کا حوالہ دیا جو بھارت کی حالیہ جارحیت اور پاکستان کے مؤثر دفاع پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کی جھڑپ پر کتاب کے باب میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ بھارت کی خطے پر بالادستی کی خواہش خطے کی بدامنی کا بنیادی سبب ہے۔ ان کے مطابق اگر بھارت نے زیادہ تعاون پر مبنی رویہ اختیار کیا ہوتا تو جنوبی ایشیا بہت پہلے امن حاصل کر چکا ہوتا۔

سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض (ریٹائرڈ) نے کتاب کے اس پہلو کو سراہا کہ بھارت کے رکاوٹ ڈالنے والے رویے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر حل طلب رہا۔ انہوں نے اس باب کی بھی تعریف کی جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ بھارت نے سرحد پار دہشت گردی کے بیانیے کو حقیقت پسندی کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ تحقیق سے یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے کئی واقعات اندرونی عناصر کی کارروائیاں تھیں لیکن ان کا الزام پاکستان پر لگا دیا گیا۔

فیکلٹی آف کنٹیمپرری اسٹڈیز (نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد) کی ڈین، پروفیسر عرشی سلیم ہاشمی نے اپنی علمی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کا پہلا باب برصغیر میں ہندو اور مسلم قوم پرستی کے ظہور کی جامع وضاحت کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ کتاب پاکستان کے ناقدین کی جانب سے اٹھائے گئے کئی سوالات کا مناسب جواب فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے آخری باب کی بھی تعریف کی جس میں کئی معاہدات اور اعتماد سازی کے اقدامات کو قلمبند کیا گیا ہے، جو تعاون کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ بھارت کی قیادت اپنی پاکستان مخالف پالیسی پر نظرثانی کرے۔

کتاب کی رونمائی کی کارروائی براہِ راست نشر کی گئی اور سوشل میڈیا پر بھی اپ لوڈ ہو رہی ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس کتاب پر علمی نشستیں اور پوڈکاسٹ ہوں گے تاکہ نوجوان محققین اور اسکالرز اس کے مندرجات پر تفصیلی گفتگو کر سکیں۔



  تازہ ترین   
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کب ہو گی، شیڈول جاری
امریکا کے ساتھ اگلے ایک سے دو روز میں معاہدہ ہو سکتا ہے: عباس عراقچی
امریکا ایران امن معاہدے پر دستخط جی 7 اجلاس کی سائیڈ لائن پر متوقع
ایران کے ساتھ معاہدے پر ہفتے کے آخر یا پیر کو دستخط ہو سکتے ہیں، ٹرمپ
ایف بی آر نے کھانے پینے، گھریلو استعمال کی اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی
معاہدے میں کیے گئے تمام وعدوں کو لازمی طور پر پورا کیا جانا چاہیے، باقر قالیباف
کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ، تنخواہ دار طبقے پر سرچارج ختم
لکی مروت میں شہریوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش حملہ آور کو ناکام بنا دیا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر