تحریر: عابد حسین قریشی
ابتدائے آفرینش سے دنیا میں کتنے نبی اور پیغمبر آئے، انکی اصل تعداد اور نام خالق کائنات ہی جانتا ہے۔ البتہ قرآن کریم میں کم و بیش 25 نبیوں اور رسولوں کے نام آئے۔ ان میں آدم علیہ السلام سے لیکر محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سبھی شامل ہیں۔ یوں تو قرآن کریم میں تمام ہی انبیا کا نام بڑی چاہت، انس اور محبت سے لیا گیا ہے، مگر کچھ انبیا اور پیغمبروں کا تذکرہ تکرار کے ساتھ اور ایک خاص ادب اور محبت کے رنگ میں پوری آن اور شان سے جھلکتا نظر آتا ہے۔ حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت داود، حضرت ابراہیم ،حضرت لوط، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسٰی علیہم السلام کا ذکر تواتر سے ملتا ہے۔ سبھی اولوالعزم اور نہایت برگزیدہ رسول و نبی تھے۔ مگر جو شان حامل قرآن حضرت محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرآن کریم میں بیان ہوئی، اسکا رنگ، اسکا اسلوب، اسکا تذکرہ، جس چاہت، جس محبت، جس اپنایئت اور جس وارفتگی کے ساتھ رب کریم نے کیا، صاف مترشح ہوتا ہے، کہ یہی وہ نبی تھا جسکے لئے یہ ساری کائنات کی بساط بچھائی گئی۔ قرآن کریم سے پہلے بھی تورات، زبور اور انجیل کی صورت میں آسمانی کتابیں نازل ہو چکی تھیں۔ کئی انبیا پر آسمانی صحیفے بھی نازل ہو چکے تھے، مگر خالق کائنات نے کبھی کسی اور نبی اور رسول کے لئے یہ تو نہیں فرمایا کہ میں تمہارے بعد نبوت کا دروازہ بند کر رہا ہوں۔ واضح اور صریح انداز اور الفاظ میں نہ سہی، کہیں اشارہ کنایہ میں بھی اس بات کا تذکرہ نہ فرمایا۔ اہل دانش و فکر کے لئے اس نکتہ میں غور و فکر کا خاصا مواد پایا جاتا ہے، کہ قرآن پاک سے پہلے کسی الہامی کتاب میں سلسلہ نبوت اسی نبی پر ختم کرنے کی بات کیوں نہ ہوئی جن پر وہ کتابیں نازل ہو رہی تھیں۔ آج یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس تورات اور انجیل کے خواہ تخریف شدہ نسخے ہیں مگر موجود تو ہیں۔ کیا کبھی کسی یہودی اور عیسائی نے یہ دعوٰی کیا ہے کہ نبوت کا سلسلہ تو انہی کے پیغمبروں پر ختم ہو گیا تھا۔ یہودی یا عیسائی محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں یا نہ مگر وہ حضرت موسیٰ یا حضرت عیسٰی علیہم السلام کے تو آخری نبی ہونے کا دعوٰی نہیں کرتے۔ اب ذرا قرآن کریم کی طرف چلتے ہیں، کہ یہاں سے ختم نبوت پر کیا پیغام ملتا ہے۔ قرآن کریم میں سورہ المائدہ کی یہ آیت کہ”” آج میں نے تمہارے دین کو تم پر مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی، اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا۔ “” سورہ المائدہ کی اس آیت مبارکہ کے بعد اگر قرآن کریم میں ختم نبوت پر مزید کوئی آیت نازل نہ بھی ہوتی، تو یہی آیت یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہوتی کہ مالک و خالق کائنات نے محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی ہدایت مکمل کرنے کے ساتھ دین اسلام والی نعمت بھی مکمل کر دی۔ اب نہ کسی نئے دین کی گنجائش رہی نہ ہدایت کی۔ اور پھر ہدایت تو نبی اور رسول لیکر آتے ہیں، جب سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 40 میں ببانگ دہل اور کھل کر بغیر کسی ابہام کے یہ اعلان فرما دیا کہ”” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہ ہیں، اور سلسلہ نبوت کی آخری مہر ہیں” اتنے واضح، غیر مبہم ، اور کھلے اعلان کے بعد کیا کسی بھی شخص کو محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوٰی زیب دیتا تھا۔ یہاں افسوس ناک بات یہ ہے، کہ پچھلے ساڑھے چودہ سو سال میں کبھی کسی یہودی یا عیسائی نے دعوٰی نبوت نہیں کیا۔ یہ مکاری اور عیاری بظاہر کلمہ گو مسلمانوں کے نصیب میں آتی رہی۔ مسلمہ بن کذاب سے مرزا غلام احمد قادیانی تک سبھی نبوت کے جھوٹے دعویدار تھے جو محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہونے کا بھی دم بھرتے تھے، مگر دنیاوی لالچ و حرص، شہرت کی تمنا اور مال و زر کی ہوس انہیں اس طرح کے دعوں پر اکساتی رہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز سرکار کا ملازم ہوتے ہوئے بھی عیسائیوں کے ساتھ مناظرے کرتا رہا۔ واہ واہ کے نعروں کی گونج میں وہ پٹری سے ہی اتر گیا۔ رہی سہی کسر انگریز حکمرانوں کی مکاری اور عیاری نے پوری کر دی۔ جنہوں نے اسلام میں دراڑ ڈالنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو استعمال کیا اور کس بے حیائی سے کیا، کہ وہ مرحلہ وار نہایت بھونڈے انداز میں اپنی روحانی منازل جھوٹ اور مکر کی بنیادوں پر طے کرنے لگا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کبھی مجتہد، کبھی مسیح موعود، کبھی حضرت عیسٰی، کبھی ذلی اور کبھی بروزی نبی کے دعوے کرتا کرتا خود کو ہی معاذاللہ محمد رسول اللہ کہلوانے لگ پڑا۔ اگر کوئی بھی ذی ہوش مرزا اور اسکے بیٹے اور مریدین کی کتابیں پڑھے تو حیران و ششدر رہ جائے گا، کہ مرزا غلام احمد کاذب صرف نبوت کا جھوٹا دعوٰیدار نہیں بلکہ وہ تو اپنی کتابوں میں لکھ رہا ہے کہ معاذ اللہ حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ ظہور قادیان میں ہوا ہے اور انکا نیا روپ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ وہ جعل ساز تو قرآن کو بھی اپنے اوپر از سر نو نازل کرا بیٹھا ہے۔ یہ سب کچھ سمجھنے کے لئے مرزا کی کتاب “کشتی نوح “ہی کا فی ہے۔ اس کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنی از سر نو پیدائش کا جو قصہ بیان کرکے اپنے آپ کو حضرت عیسٰی علیہ السلام منوانا چاہتا ہے، وہ اتنا مضحکہ خیز ہے کہ اسے تو یہاں مجھے نقل کرنے کا بھی حوصلہ نہیں۔ اس طرح کی من گھڑت کہانیاں کہ جن کو بچہ بھی سنے تو تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔ ایک کے بعد دوسرا جھوٹ اس ڈھٹائی سے کہ نہ بات کا سرا ملتا ہے، نہ لاجک اور نہ دلیل۔ جس شخص کو یہ ہی پتہ نہیں کہ وہ حضرت عیسٰی کا روپ دھارنے کے لئے کتنے تکلیف دہ عمل سے گزرا وہ وہیں اکتفا نہیں کر رہا، بلکہ اپنی نبوت کا ڈھونگ مسلمانوں پر بھی پیھلا رہا ہے۔ در اصل مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار بھول جاتے ہیں، کہ سلسلہ نبوت تو محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہی رکنا تھا۔ جو مکہ میں پیدا ہوئے اور تاجدار مدینہ ہیں۔ وہ تو صرف ایک ہی محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جو بی بی آمنہ سلام اللہ علیہا اور سیدنا عبداللہ کے بیٹے، بنو ہاشم کے سرداران ابومطلب کے پوتے اورجناب ابوطالب کے بتیجھے، سیدہ کائنات بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے والد گرامی اور حسنین کریمین کے نانا ہیں۔ دوسرا محمد ان خوبیوں اور نسبتوں کے ساتھ کون پیدا ہو سکتا ہے۔ نبی آخر الزماں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے بے شمار فرامین اتنے واضح ہیں، کہ “میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ “اور میں ختم نبوت کی آخری اینٹ اور مہر ہوں” محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تو کسی نبی کی نہ گنجائش تھی ، نہ ضرورت ، یہی اللہ تعالٰی کی رضا، منشا اور قرآن کی حکمت بھی تھی۔ اور یہی ہمارے ایمان کی اساس بھی ہے۔ اگر کسی مسلمان کے دل سے ختم نبوت کا جذبہ اور چنگاری نکال دیں تو پیچھے کچھ بھی نہیں بچتا۔ عقیدہ ختم نبوت نہ صرف ہماری پہچان ہے بلکہ مسلم و غیر مسلم میں شناخت کا باعث بھی ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیں اسی عقیدہ ختم نبوت پر زندہ رکھے اور اسی پر ہمارا خاتمہ فرمائے۔ آمین. (یوم ولادت مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک خصوصی تحریر۔)



