ترقی کے بیج بونے کے لئے پاکستان کے زرعی باصلاحیت افراد کی چین میں تربیت

بیجنگ(شِنہوا)چین کے جنوب مغربی صوبے سیچھوان کے شہر چھنگ دو میں واقع چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) کے اربن ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ میں “وزیراعظم پاکستان کے 1000 زرعی گریجویٹس کی چین میں تربیت کے منصوبہ” کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔
اسلام آباد سے آنے والے 86 پاکستانی زرعی ماہرین اس 3 ماہ کے تربیتی پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں جس کا مقصد جدید زرعی ٹیکنالوجیز اور انتظامی تجربات سیکھ کر چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
سی اے اے ایس کے اربن ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ژانگ دے چھوان کے مطابق تربیتی نصاب کو پاکستان کی زرعی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے جس میں زرعی مشینی عمل اور پھل و سبزیوں کی پراسیسنگ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
چھنگ دو میں پاکستانی قونصل خانے کے نمائندے تنویر احمد بھٹی نے کہا کہ یہ تربیتی منصوبہ پاکستان کے لئے زرعی تکنیکی ماہرین کی ایک اہم ٹیم تیار کرے گا جو ملک کی زرعی پیداوار میں بہتری کے لئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
پودوں کی افزائش نسل اور جینیات میں تعلیم یافتہ لاہور سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ ماہم ظہیر اس وقت عملی طور پر زراعت سے منسلک ہیں۔ انہوں نے پروگرام سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین زراعت کے شعبے میں عالمی قیادت کا حامل ہے۔ ہم یہاں چین کی ترقی یافتہ ٹیکنالوجیز سیکھنے اور انہیں پاکستان میں لاگو کرنے کے لئے آئے ہیں۔
تربیتی پروگرام میں نظریاتی اور ثقافتی کلاسوں کے ساتھ ساتھ لیبارٹریوں اور کھیتوں میں عملی مشقیں بھی شامل ہیں تاکہ شرکاء کو وہ ہنر حاصل ہوسکیں جو وہ وطن واپس جا کر فوراً استعمال کرسکیں۔
پاکستان کی وزارت قومی تحفظ خوراک و تحقیق کے عہدیدار عظیم حیدر نے پروگرام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان طلبہ کا انتخاب ایک سخت اور شفاف عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر پاکستان کے تمام صوبوں سے کیا جائے۔ ہمارا مقصد ہے کہ یہ افراد بیجوں کی پیداوار اور پائیداری میں مہارت حاصل کریں تاکہ خوراک کے عدم تحفظ اور موسمیاتی چیلنجز پر قابو پایا جا سکے۔
یہ زرعی تربیتی منصوبہ چین اور پاکستان کی قیادت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقات میں سے ایک ہے۔ منصوبےکے تحت ایک ہزار پاکستانی زرعی ماہرین کو چین میں تربیت دی جائے گی۔ سی اے اے ایس کے زیرِاہتمام جاری منصوبے کے دوسرے مرحلےکا مقصد پاکستانی زرعی ماہرین کو جدید ٹیکنالوجی میں مہارت دینا ہے تاکہ وہ دونوں ممالک میں پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دے سکیں۔ کچھ شرکاء اپنی تربیت سی اے اے ایس کے نیشنل نان فان ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بھی جاری رکھیں گے۔
اس منصوبے پر عملدرآمد سے چین-پاکستان تزویراتی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت زرعی تعاون کو نئی جہت ملے گی۔



  تازہ ترین   
قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ
امریکہ-ایران جنگ بندی ہوگئی، 60 دنوں میں مستقل معاہدے کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کر لی
صدر مملکت کا سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے پر خواتین کو خراجِ تحسین
منجمد فنڈز سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کوئی لازمی شرط نہیں، ایران
ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر