انٹرنیشنل ڈیسک(نیشنل ٹائمز) اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مغربی کنارے میں زیتون کے ہزاروں درخت تباہ کردیے۔
اسرائیلی فوج فلسطینوں کے قتل عام اور ان کی زمین پر اپنی غیر قانونی آبادیاں اور بستیاں قائم کرنے کے بعد اب فلسطینوں کا معاشی قتل بھی کررہی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مغربی کنارے میں واقع شہر رام اللہ میں فلسطینیوں کے زیتون کے 3000 سے زائد درخت تباہ کردیے ہیں اور یہ کارروائیاں اب تک جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے رام اللہ کے شمال مشرق میں تقریباً 4,000 رہائشیوں پر مشتمل ایک گاؤں المغیر میں 0.27 مربع کلومیٹر کے علاقے میں زیتون کے درختوں کو اکھاڑ پھینکنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس حوالے سے المغیر کے مقامی کونسل کے سربراہ امین ابو علیا کا کہنا ہے کہ یہ گاؤں اسرائیل کے توسیع پسندانہ منصوبے کے درمیان میں واقع ہے اس لیے اسرائیلی فوج اسے نشانہ بنارہی ہے تاکہ لوگ اس جگہ کو چھوڑ کر چلے جائیں۔
اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے زیتون کے درخت تباہ کرنے لگی



