ویب ڈیسک(نیشنل ٹائمز)سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے باجوڑ کے قبائل کے سامنے 3 نکات رکھے ہیں جس میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ اگر وہ خوارج کو نہیں نکال سکتے تو علاقہ خالی کر دیں، فورسز یہ کام خود کر لیں گی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ میں قبائل اور خارجیوں کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، خوارج باجوڑ میں رہ کر دہشت گرد اور مجرمانہ کاررائیوں میں ملوث ہیں۔سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت، وزیراعلیٰ اور سکیورٹی حکام نے باجوڑ کے قبائل کے سامنے 3 نکات رکھے۔پہلا نکتہ یہ تھا کہ زیادہ تعداد میں افغانوں پر مشتمل خارجیوں کو باہر نکالیںدوسرا نکبہ یہ تھا کہ خارجیوں کو نہیں نکال سکتے تو ایک یا 2 دن کے لیے علاقہ خالی کر دیں تاکہ فورسز یہ کام کر لیںتیسرا نکتہ یہ تھا کہ قبائل اگر دونوں کام نہیں کر سکتے تو حتی الامکان حد تک دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران نقصان سے بچنے کی کوشش کریں۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہر صورت جاری رہے گی، دین، ریاست اور خیبر پختونخوا کے عوام خوارج کے ساتھ کمپرومائز کی اجازت نہں دیتے، مسلح کارروائی کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل شمالی وزیرستان میں ہونے والے جرگے میں قبائلی مشران نے فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے خوارج کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔
باجوڑ سے خارجیوں کو نہیں نکال سکتے تو علاقہ خالی کردیں: حکام نے قبائل کے سامنے 3 نکات رکھ دیے



