نیو یارک(نیشنل ٹامز) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تاریخی بحران کا شکار مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انتہائی پُراثر تقریر کرکے عالمی ضمیر جھنجوڑ دیا۔
نائب وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ بشمول مسئلہ فلسطین کے موضوع پر کھلے مباحثے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صدارت کی اور اس موقع پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ نہ صرف بےگناہ فلسطینیوں بلکہ عالمی قوانین کا بھی قبرستان بن چکا ہے، مسئلے کا واحد حل دو ریاستوں کا قیام ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ عشروں سے فلسطینی عوام بدترین قبضہ اور نسلی عصبیت سہہ رہے ہیں۔ انہیں بنیادی حقوق بشمول حق خود ارادیت اور اپنی ریاست کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ غزہ میں پچھلے 22 ماہ سے جو کچھ ہورہا ہے وہ نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ انسانیت ملیہ میٹ ہوچکی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ غزہ نہ صرف بےگناہ فلسطینیوں بلکہ عالمی قانون خصوصاً ہیومینیٹرین قانون کا قبرستان بنا دیا گیا ہے جہاں 58 ہزار سے زائد فلسطینی مارے گئے ہیں۔اسرائیل کے اس ظالمانہ فوجی حملوں میں شہید افراد میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ اسپتالوں، اسکولوں، اقوام متحدہ کی تنصیبات، امدادی قافلوں اور پناہ گزیں کیمپوں کو منظم انداز سے جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ اجتماعی سزا عالمی ہیومینیٹرین قانون، سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعدد قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ساتھ ہی یہ عالمی عدالت انصاف کے احکامات کے بھی خلاف ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں غذا کا بحران غیرمعمولی اور خوف ناک سطح پر پہنچ چکا ہے، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ کی ایک تہائی آبادی مسلسل کئی کئی روز تک فاقہ کشی پر مجبور ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین کا سوال اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی قانون کی ساکھ کا لٹمس ٹیسٹ ہے۔ عالمی برادری اگر فلسطینی عوام کے حقوق دینے میں ناکام ہوئی تو اُس انٹرنیشنل آڈر کا جواز ختم ہوجائے گا جس کی حفاظت کا ہم سب دم بھرتے ہیں۔اس لیے سلامتی کونسل کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔اصولی مؤقف پیش کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی سپورٹ کا غیر متزلزل عزم دہراتا ہے، انہیں خودمختار فلسطینی ریاست کا حق حاصل ہے جو 1967 کی سرحدوں میں ہو اور جس کا دارالحکومت القدس ہو۔یہی وہ منصانہ اور دیرپا حل ہے جو کہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے تحت ہے اور عرب امن انیشی ایٹو اور اسلامی کانفرنس تنظیم کا متفقہ مؤقف ہے۔نائب وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ متحد ہو کر اور سرعت کے ساتھ 6 نکات پر عمل کرے۔جس میں اولیت غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فوری، دیرپا اور غیرمشروط جنگ بندی کو دی گئی۔انہوں نے سیز فائر کیلئے مصر، قطر اور امریکا کے کردار کی ستائش بھی کی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی شہریوں کو محفوظ انسانی امداد یقینی بنائی جائے، امدادی ورکرز، طبی عملے اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو تحفظ دیا جائے، ساتھ ہی جان بچانے والی غذا اور طبی امداد دی جائے اور قحط سالی پھیلنے سے روکی جائے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کا عمل ختم، یہودیوں کی غیرقانونی آباد کاری میں وسعت بند کی جائے اور خصوصاً مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کو روکا جائے۔نائب وزیراعظم نے عرب اور اسلامی کانفرنس تنظیم کے زیر قیادت غزہ میں تعمیر نو منصوبے کی وکالت کی اور کہا کہ سیاسی اُفق وقت کی ضرورت ہے۔ ایسا سیاسی عمل شروع کیا جائے جس سے عالمی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ، جامع اور دیرپا دوریاستی حل نکلے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی ریاست اور اقوام متحدہ میں اس کی مکمل رکنیت سے متعلق بڑھتی عالمی سپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ جن ممالک نے فلسطین کو تاحال ریاست تسلیم نہیں کیا وہ جس قدر جلد ممکن ہو، یہ اقدام کریں۔شام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے بحران کا شکار اس ملک کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی استحکام کی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل جولان کی پہاڑیوں سمیت قابض علاقوں سے واپس جائے۔انہوں نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی استحکام کیلئے بھی آواز اٹھائی اور یمن میں امن عمل کی حمایت کی۔اسرائیل پرکڑی تنقید کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران پر اسرائیل کی جارحیت اور غیرقانونی فوجی حملے انتہائی پریشان کن تھے جو کہ علاقائی اور عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ بنے اور انہوں نے خطرناک روایت ڈالی ہے۔مسئلہ کا حل مذاکرات اور سفارتکاری سے نکالا جانا چاہیے۔تقریر کا اختتام کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ طاقت کا استعمال اور یکطرفہ فوجی اقدامات تنازعات اور تقسیم کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔واحد راستہ عالمی قوانین پر عمل برقرار رکھنے، غیرملکی قبضہ ختم کرنے، طاقت کے استعمال کی مخالفت، اور مسائل کا سفارتکاری اور مذاکرات سے حل نکالنے میں ہے۔اسحاق ڈار نے کہا یہ وقت ہے کہ فلسطینی عوام کو وہ حق دیا جائے جو طویل عرصے سے ان سے چھینا ہوا ہے۔ان کےساتھ انصاف کیا جائے، آزادی دی جائے اور ان کی اپنی ریاست ہو۔یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطی میں دیرپا امن اور سلامتی یقینی بناسکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل میں فلسطین پر عالمی ضمیر جھنجوڑ دیا



