اسلام آباد (مظہر طفیل) شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں سفارتی طور پر بھارت تنہائی کا شکار ہوگیا جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان نے بڑی کامیابی حاصل کرلی، جبکہ اسی اجلاس میں بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مشترکہ اعلامیے میں بھارت پَہلگام واقعہ کو پاکستان سے جوڑنے میں ناکام ہوگیا، جس کے بعد بھارت نے اپنی ہزیمت چھپانے کے لیے مشترکہ اعلامیے پر دستخط سے انکار کردیا۔ پَہلگام معاملے پر بھارت سفارتی طور پر بالکل تنہا نظر آیا اور کسی بھی رکن ملک نے بھارت کا ساتھ نہیں دیا۔ اسی طرح ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر تمام رکن ممالک نے مذمت کی جبکہ بھارت کا نقطۂ نظر مختلف تھا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے سے بھارت سفارتی سطح پر اب مکمل طور پر تنہا ہو چکا ہے۔
ادھر شنگھائی تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر اور ڈی جی آئی ایس آئی کا کردار انتہائی اہم رہا۔ اجلاس کے دوران جنرل عاصم ملک کی دلائل سے بھرپور تقریر سے بھارتی وفد کے سربراہ اجیت ڈوول مسلسل پریشانی کا شکار رہے۔
چین میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے قومی سلامتی کے مشیروں کے اجلاس میں بھارت اور پاکستان آمنے سامنے آ گئے۔ اجلاس میں بھارت کے اجیت ڈوول کو ڈی جی آئی ایس آئی اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے لاجواب کردیا، اور عاصم ملک کے ہاتھوں ناک آؤٹ ہونے کے بعد اجیت ڈوول خاموش ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ اس اجلاس میں اجیت ڈوول نے اپنی تقریر میں بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی قرار دیا اور بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کے خلاف الزامات لگائے۔
اس موقع پر جب پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر عاصم ملک نے اپنی مدلل اور زوردار تقریر میں اجیت ڈوول کے بیانیے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کردیا، انہوں نے اجلاس میں اجیت ڈوول کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل اور ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کا عادی ہو چکا ہے۔
جنرل عاصم ملک نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس بھارت کی جانب سے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ اس موقع پر جنرل عاصم ملک نے ماضی قریب میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی بعض بڑی کارروائیوں متعلق بھارتی خفیہ اداروں کے دہشت گرد گروپوں سے تعلقات کے ناقابل تردید ثبوتوں سے کانفرنس کے شرکا کو آگاہی بھی دی۔



