جسٹس مندوخیل نے کہا کیا آرٹیکل 175 کےتحت ملٹری کورٹس کےقیام کےلیے گنجائش رکھی گئی ہے؟ وکیل وزارت دفاع نے کہا ایساہوا تو ملٹری کورٹس سے متعلق جتنے بھی فیصلے دیےگئے ان پرنظرثانی کرناپڑےگی، آئین میں قانون کےتحت عدالتوں کےقیام کاذکرہے،کئی ممالک میں ملٹری کورٹس ہیں۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ نارکوٹکس کا پورا کنٹرول فوج کے پاس ہے، نارکوٹکس میں ٹرائل چلاناہوتاہےتو متعلقہ چیف جسٹس سےسیشن جج مانگاجاتاہے، کیاملٹری کورٹس میں ایساہوتا، اس پر وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا تمام عدالتی فیصلوں میں ملٹری کورٹس کوآرٹیکل 175 سےالگ رکھاگیاہے۔ سماعت کے دوران وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نےلفافوں میں ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بینچ کو پیش کردیا اور ملٹری ٹرائل کی 7 کاپیاں آئینی بینچ کے ساتوں ججز کو مہیا کردی گئیں۔اس موقع پر وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ عدالت ٹرائل کاطریقہ کاردیکھ لے، ٹرائل سے قبل پوچھا گیاکسی کو پریذائڈنگ آفیسر پرکوئی اعتراض تونہیں جس پر کسی نے بھی پریذائڈنگ آفیسر پرکوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس موقع پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ریکارڈ تو اپیل میں دیکھا جانا ہے، ہمارے لیےاسکا جائزہ لینامناسب نہیں، جسٹس امین الدین نے کہا ہم ٹرائل کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔ بعد ازاں آئینی بینچ کے6 ججز نےٹرائل کا ریکارڈ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو واپس کردیا۔
سویلینز کا ملٹری ٹرائل کیس: 9 مئی ملزمان کے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کردیا گیا



