آپ ملٹری ٹرائل کے کس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟ عدالت، کسی فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا، وکیل وزارت دفاع

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی جس سلسلے میں وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے۔خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ اور رولز میں فیئرٹرائل کا مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ آپ ملٹری ٹرائل کے کس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟ خواجہ حارث نے جواب دیا میں کسی فیصلے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا۔خواجہ حارث نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک نے سیکشن 2 ون، ڈی ون کو فیئر ٹرائل کے منافی قرار دیا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے قانونی سیکشنز پر رائے نہیں دی اور کہا تھا کہ قانونی سیکشنز پر لارجربینچز کے فیصلوں کا پابند ہوں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا 21 ویں ترمیم میں فیصلے کی اکثریت کیا تھی؟ اس پر وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے جواب دیا 21 ویں ترمیم کا اکثریتی فیصلہ 8 ججز کا ہے اور 21 ویں ترمیم کواکثریتی ججز نے اپنے اپنے انداز میں برقرار رکھا۔ وکیل وزارت دفاع نے دلائل دیے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے رائے دی کہ آرمی ایکٹ کی شقوں پرفیڈریشن کو مکمل سناہی نہیں گیا، اس پر جسٹس مظہر نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شقوں پر اٹارنی جنرل کو کیا 27 اے کا نوٹس دیا گیا تھا؟ جسٹس یحییٰ آفریدی کےنوٹ سے تو لگتاہے اٹارنی جنرل کو سنا ہی نہیں گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بینچ نے اٹارنی جنرل کوکہا تھا دلائل آرمی ایکٹ کی شقوں کی بجائے 9 اور 10مئی واقعات پر رکھیں، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا یہ تو عجیب بات ہے، پہلےکہاگیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر بات نہ کریں، پھر شقوں کو کالعدم بھی قرار دےدیا گیا۔ وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ احتجاج اور حملے میں فرق ہے، اس پر جسٹس امین الدین نے کہا 21 جولائی 2023 کےآرڈر میں صرف 9 مئی کی بات کی گئی ہے، جسٹس مندوخیل نے کہا کہ 9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی مگر سوال ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل کہاں پر ہوگا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرائم قانون کی کتاب میں لکھے ہیں، اگر جرم آرمی ایکٹ میں فٹ ہوگا تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا، اس پر جسٹس جمال نےکہا کہ 21 ویں ترمیم میں کہا گیا سیاسی جماعتوں کےکیسز آرمی کورٹ میں نہیں چلیں گے۔جسٹس جمال نے سوال کیا کہ کیا 21 ویں ترمیم کے بغیر دہشتگردوں کے خلاف ملٹری ٹرائل نہیں ہوسکتا تھا، اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا 21 ویں ترمیم میں قانون سازی دیگر مختلف جرائم اور افراد پر مبنی تھی۔ جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ پولیس اہلکار کی وردی پھاڑنا جرم ہے، یہاں کور کمانڈر لاہور کا گھر جلایا گیا، ایک دن ایک ہی وقت مختلف جگہوں پر حملے ہوئے، عسکری کیمپ آفسز پر حملے ہوئے، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا، پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مختلف شہروں میں ایک وقت پر حملے ہوئے، جرم سے انکار نہیں ہے۔جسٹس جمال نے کہا کہ پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہیں ہوا؟ کیا پارلیمنٹ خود پر حملے کو توہین نہیں سمجھتی؟ اس موقع پر سپریم کورٹ پر بھی حملہ ہوا وہ بھی سنگین تھا، اسے بھی شامل کریں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کیس کی مزید سماعت پیر کے دن تک ملتوی کردی۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کی ہدایت
بنگلہ دیش کا پاک، سعودیہ، ترکیہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کا عندیہ
ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر
دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب
بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ
ہم مضبوط پوزیشن میں ہیں، جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا: ایرانی صدر
امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی
امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر