عدیس ابابا (شِنہوا) 25 سالہ گیٹاچھیو گیمی چھو ایتھوپیا کے وسطی علاقے میں ایک چھوٹے سے خشک شہر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ر ہائش پزیر ہے، یہ علاقہ پانی کی قلت کے لئے مشہور ہے جس کے اثرات زرعی کمیونٹی کے روزگار پر بھی ہوتے ہیں۔
اس علاقے میں ایک نخلستان کی مانند گیمی چھو کے گھر کے پچھلے حصے میں موجود فارم ذرخیز ہے۔ یہاں مختلف قسم کے پھلوں کے درخت اگائے گئے ہیں جن میں ناشپاتی، آم، کیلا اور امرود شامل ہیں جو مختلف قسم کی سبزیوں کے ساتھ نشوو نما پاتے ہیں۔
گیمی چھو نے ایک حالیہ انٹرویو میں شِنہوا کو بتایا کہ محفوظ پانی کے ذرائع تک رسائی کمیونٹی کے ارکان کے لئے پھلوں اور سبزیوں کی کاشت اور مویشیوں کی پرورش کے لئے انتہائی ضروری ہے، ملک کے دارالحکومت عدیس ابابا کے مشرق میں دوکم ٹاؤن کے قریب واقع میلکا کمیونٹی کا انحصار زیادہ تر زراعت پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ برسوں تک پانی کی محدود رسائی نے ہماری کمیونٹی کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کردیا تھا ۔ ہمیں دور دراز کے چشمے تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹے سفر کرنا پڑتا تھا جس میں ہمارا قیمتی وقت، توانائی اور پیسہ ضائع ہو جاتا تھا ۔
گیمی چھونے کہا کہ پانی کے قابل اعتماد ذریعہ تلاش کرنے میں مشکلات کی وجہ سے اس علاقے میں زرعی سرگرمیاں زیادہ تر بارشوں کے موسم تک محدود رہتی تھیں۔ ہم طویل عرصے سے اپنے پانی کے مسئلے کا دیرپا حل چاہتے تھے ۔
ایک نوجوان والد نے کہا کہ وہ اور ان کے کمیونٹی کے دیگر افراد سالوں سے پانی کی قلت کا سامنا کر رہے تھے تاہم چینی فاؤنڈیشن برائےدیہی ترقی (سی ایف آر ڈی)اور اس کے شراکت دار ادارے شوژو کنسٹرکشن مشینری گروپ کمپنی لمیٹڈ(ایکس سی ایم جی)کے ایک جدید منصوبے کی بدولت یہ اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے ۔
گیمی چھو نے کہا کہ اس کے خاندان کا شمار میلکا کمیونٹی کے 39 گھروں میں ہوتا ہے جنہیں اپنے گھر کی پچھلی طرف بنائے گئے پانی کے سیلرز سے فائدہ ہو رہا ہے۔
نیا بنایا گیا پانی کا سیلرحالیہ بارشوں کے موسم میں اچھا خاصا پانی جمع کرنے میں کامیاب رہا اور ہم گزشتہ چند ماہ سے ذخیرہ شدہ پانی استعمال کر رہے ہیں۔



