نیروبی (نیشنل ٹائمز )کینیا میں اضافی ٹیکسوں کے خلاف عوامی احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے صدر ولیم روٹو نیمالیاتی فنانس بل پردستخط نہیں کیے۔گزشتہ روز فنانس بل میں اضافی ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت میں داخلے کی کوشش کی تھی اور پولیس سے جھڑپوں میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کینیا کے صدر ولیم روٹو نے کہا کہ کینیا کے لوگوں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ انہیں یہ بل منظور نہیں اس لیے میں ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے اس بل میں دستخط نہیں کروں گا اور اسے واپس لیلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کینیا کی یوتھ کے ساتھ ڈائیلاگ کریں گے اور اخراجات میں کمی کے اقدامات کریں گے جن کا آغاز حکومت سے ہوگا۔خیال رہے کہ کینیا کی پارلیمنٹ نے ایک روز قبل ترمیمی مالیاتی بل کی منظوری دے کر بل صدر کو دستخط کیلیے بھیجا تھا۔مالیاتی بل میں آئی ایم ایف اور دیگر قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے ٹیکسوں میں2.7 ارب ڈالرکا اضافہ کیاگیا تھا، کینیا میں صرف سود کی ادائیگی میں ملک کی سالانہ آمدنی کا 37 فیصد خرچ ہونا تھا۔
کینیا میں اضافی ٹیکسوں کیخلاف عوامی احتجاج رنگ لے آیا، صدر کا فنانس بل پر دستخط سے انکار



