نیروبی (نیشنل ٹائمز)افریقی ملک کینیا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے تنگ عوام حکومت کی جانب سے مجوزہ ٹیکسوں میں اضافے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر دھاوا بول کر اسے آگ لگا دی ، احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ سے کم سے کم10 افراد ہلاک اور50سے زائد زخمی ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دارلحکومت نیروبی میں پارلیمنٹ کے باہر افراتفری اور مظاہرین کے پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ سینکڑوں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا اور عمارت میں گھس کر مختلف حصوں میں آگ لگا دی۔ کینیا کی پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے میں ناکامی کے بعد آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھرا ئوکیا۔ پولیس کی براہ راست فائرنگ سے 10 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے۔برطانوی خبررساںادارے کے مطابق پارلیمنٹ کے باہر کم از کم پانچ مظاہرین کی لاشیں د یکھی گئی ہیں ۔مظاہرین میں سے ایک شخص ڈیوس ٹفاری نے پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے خبررساںادارے کو بتایا کہ ہم پارلیمنٹ کو بند کرنا چاہتے ہیں اور ہر رکن پارلیمنٹ کو اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہئیں، اور استعفی دینا چاہئے، ہماری نئی حکومت ہوگی۔اس دوران ملک بھر کے کئی دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی مظاہرے اور جھڑپیں ہوئیں۔خیال رہے کہ پارلیمنٹ نے فنانس بل کی منظوری دے دی ہے، اگلا مرحلہ یہ ہے کہ قانون سازی صدر کو دستخط کے لیے بھیجی جائے۔ اگر انہیں کوئی اعتراض ہو تو وہ اسے واپس پارلیمنٹ میں بھیج سکتے ہیں۔
کینیا،آئی ایم ایف کی ایما پر بنائے گئے بجٹ منظوری کے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئے ، پارلیمنٹ کو آگ لگا دی، پولیس کی فائرنگ سے 10 افراد ہلاک



