نئی دہلی(نیشنل ٹائمز)اقتدارکی ہوس نے مودی کو اندھا کر کے کرپٹ اور مجرموں پر مشتمل کابینہ تشکیل دینے پر مجبور کردیا۔بی جے پی کے ممبر اور وزیرداخلہ بندی کمار سنجے کے خلاف 42مقدمات درج ہیں جن میں سے 30سے زائد سنگین الزامات خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق ہیں،مودی کی کابینہ میں حلف اٹھانے والے چھ وزرا کے اثاثے 100کروڑ روپے سے زائد ہیں۔بی جے پی اور اتحادیوں کے 28وزرا کے خلاف فوجداری مقدمات جبکہ 19کے خلاف خواتین سے متعلقہ مقدمات شامل ہیں،بی جے پی کے دو ارکان مغربی بنگال میں قتل کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، مختلف وزارتوں کا حلف اٹھانے والے 72میں سے 71وزرا کسی نہ کسی جرم میں ملوث ہیں۔بی جے پی کے شانتنو ٹھاکر پر 23اور سکانتا مجمدار پر 16خواتین کے خلاف سنگین جرائم اور نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات درج ہیں، بی جے پی کے دیگر اہلکاروں جن میں سریش گوپی اور جوال اورم شامل ہیں پر خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات درج ہیں، بی جے پی کے آٹھ وزرا جن میں امت شاہ، شوبھا کرندلاجے، دھرمیندر پردھان، گری راج سنگھ اور نتیا نند رائے شامل ہیں، پر نفرت انگیزی کو بڑھاوا دینے کے مقدمات درج ہیں،71میں سے 70وزرا کروڑ پتی ہیں اور ان کے اثاثہ جات کم از کم سو کروڑ روپے سے زائد ہیں،بی جے پی اور اتحادیوں کے خلاف حملے، قتل، عصمت دری اور اغوا جیسے سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیں،مودی سرکار کی کابینہ اس بات کا واضح ثبوت ہیکہ تیسرے دور حکومت میں بھی بھارت میں مجرمانہ اور غیر انسانی کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
مودی کی کابینہ مجرمان پر مشتمل،بی جے پی کے ممبر اور وزیرداخلہ بندی کمار سنجے کے خلاف 42مقدمات درج



