اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر قانون نے گندم سکینڈل پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا اپوزیشن کا مطالبہ مسترد کر دیا۔جمعرات کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن کی طرف سے گندم سکینڈل پر تنقید کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی طے کرے گی اور ہم اسے عدالت نہیں بھیجیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہر معاملہ عدالت کے سپرد نہیں کیا جانا چاہیے پارلیمنٹ بڑا ادارہ ہے اور عوامی مسائل ہمیں خود حل کرنے چاہئیں،ہمیں اپنی داڑھی کسی کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے۔یہ مناسب نہیں لگتا کہ ایک ریٹائرڈ جج ہم سے پوچھ گچھ کرتا رہے،ہم عوامی نمائندے ہیں ہمیں اپنی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو پارلیمانی کمیٹی پر کوئی اعتراض نہیں اور ہم سپیکر سے کہتے ہیں کہ وہ متفقہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے جو گندم سکینڈل کی انکوائری کرے۔اس انکوائری کی بنیاد پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور انہیں سزائیں دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی زیادہ با اختیار فورم ہے۔ہم انکوائری سے بھاگ نہیں رہے ہیں بلکہ ہم پارلیمان سے انکوائری کرانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کسانوں کو خصوصی پیکج دیا جائے گا زراعت جی ڈی پی کا 24 فیصد ہے اور ملک میں روزگار کا 37.4 فیصد ہے۔ہم کسی صورت بھی اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے کسانوں کے مسائل حل کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔قبل ازیں ملک عامر ڈوگر ،نفیسہ شاہ ،خواجہ شیراز، حنا ربانی کھر، ثنا اللہ مستی خیل، حسین طارق اور اسلم گھمن نے حکومت کو گندم سکینڈل پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت انکوائری سے بھاگ رہی ہے۔زرتاج گل، شہریار افریدی ،شبیر بجرانی اور اعجاز الحق نے بھی کندم کے معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ان کا موقف تھا کہ کسان شدید پریشانی کا شکار ہے اور اس کو اپنی اصل لاگت پر بھی گندم فروخت کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔
وزیر قانون نے گندم سکینڈل پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا اپوزیشن کا مطالبہ مسترد کر دیا



