چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں، مشترکہ منصوبے بنائیں، وزیر اعظم شہباز شریف کا چینی میڈیا کو انٹرویو

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی، تجارتی و سرمایہ کاری روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چین کے تجربات سے استفادہ کرکے برآمدات میں اضافےکا خواہاں ہے، سی پیک اعلیٰ معیار کی ترقی کے دوسرے مرحلہ میں داخل ہو رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے پاکستان کی سائنسی و تکنیکی ترقی کو فروغ ملا ہے ، چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ منصوبے بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے 5 روزہ سرکاری دورے پر روانگی قبل شنہوا نیوز ایجنسی، سی سی ٹی وی اور سی جی ٹی این اردو سمیت مختلف چینی میڈیا گروپس کے نمائندوں کےساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے باہمی فائدے اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے چین کی کاروباری شخصیات کے ساتھ بات چیت کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنایا جائے گا، ہم سنجیدہ منصوبوں کے ساتھ چین جا رہے ہیں، وہاں پر مفید بات چیت ہو گی جس سے چینی اور پاکستانی کمپنیوں کو فائدہ ہو گا ،دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات ہمالیہ یا کسی بھی دوسری بلند ترین چوٹی سے کہیں زیادہ بلند اور گہرے سمندروں سے زیادہ گہرے ہو جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس دورے کے ذریعے پاکستان دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیا ن روابط کےفروغ، خصوصی اقتصادی زونز ، صنعتوں کےقیام اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پاکستان کی افرادی قوت کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے ، صنعتوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں سہولت ، پاکستان کی مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کی امید ہے۔ اس کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ڈھانچہ جاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات ، اخراجات میں کمی، صنعتوں کےفروغ اور سرمایہ کاروں کیلئے سہولتیں پیدا کرنے کے ذریعے قومی معیشت میں بہتری لانے کی حکومتی ترجیحات کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات سے سیکھنا چاہتا ہے اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کا خواہاں ہے، اس سلسلہ میں پہلا اقتصادی زون پاکستان سٹیل ملز میں قائم کیا جائے گا جسے پہلے ہی ریل نیٹ ورک سے منسلک کیا جا چکا ہے اور یہ بندرگاہ کے قریب ہے۔ انہوں نے چینی صوبوں اور کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں اور باہمی فائدے کیلئے پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کریں۔ انہوں نے چینی ٹیکسٹائل شعبہ کو پاکستان میں اپنے یونٹس قائم کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دورہ چین کے دوران وہ ہواوے کمپنی کو بھی قائل کریں گےکہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے حوالہ سے پاکستانی نوجوانوں کیلئے مختصر مدت کے کورسز شروع کرے تاکہ وہ اپنا کاروبار خود شروع کر سکیں اور خلیجی ممالک کیلئے اپنی خدمات مہیا کریں اور پاکستان میں واپس ترسیلات زر بھجوائیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان چین کی زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے زرعی پیداوار اور ان کی برآمدات کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔دو طرفہ تعلقات کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں اور ہماری دوستی لازوال ہے اور ہمارے دل ایک دوسرے کےساتھ دھڑکتے ہیں۔انہوں نے مشکل ترین وقت میں چین کی طرف سے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور کہا کہ پاکستان چین کو دنیا بھر میں اپنا سب سے قابل اعتماد دوست سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ون چائنا اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور یہ عزم ہمیشہ اٹل رہے گا۔ چین کی ترقی سے متعلق وزیراعظم نے کہاکہ آج چین وژن، سخت محنت اور سنجیدہ اور انتھک کاوشوں کی وجہ سے ایک عظیم قوت بن چکا ہے، چینی ماڈل کے بارے میں تمام شکوک و شبہات کو تاریخ کے شواہد نے غلط ثابت کیا ہے۔اپنے انتخاب کے بعد چین کے صدر شی جن پھنگ کی طرف سے مبارکباد کے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کی دوستی کی عکاسی ہوتی ہے جو ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پھنگ کی قیادت کو سراہا جنہوں نے لاکھوں چینی عوام کو غربت سے نکالا اور اس دورے کے دوران وہ غربت کے خاتمے کے چینی ماڈل سے سیکھنا چاہتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چین کے حکمرانی کے تجربے ، بنیادی اصلاحات، انسداد بدعنوانی ، چینی سرمایہ کاروں کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے اور سرمایہ کاروں کیلئے مفید پالیسیاں متعارف کرانے کے حوالہ سے چین کے تجربہ سے استفادہ کا خواہاں ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ 2013 میں اس کے آغاز کے بعد سے حاصل ہونے والی کامیابیاں سب کے سامنے عیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے صاف اور بہتر بنیادی ڈھانچہ کے حوالہ سے تیز تر اور مفید نقل و حمل کے نیٹ ورک کے نتیجہ میں سی پیک سے پاکستان کیلئے وسیع تر ترقی کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی چیک دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں دونوں ممالک زراعت، کان کنی، محنت کش روشنی کی صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔چین کے تعاون سے پاکستان کے پہلے سیٹلائٹ اور ملٹی مشن کمیونیکیشن سیٹلائٹ کی لانچنگ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون نے پاکستان کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو فروغ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملٹی مشن کمیونیکیشن سیٹلائٹ سے پاکستان کا موجودہ ڈیجیٹل ماحول تبدیل ہونے کی توقع ہے، پورے ملک کے لئے تیز رفتار انٹرنیٹ سہولیات فراہم ہوں گی، لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو گا اور ای کامرس اور آن لائن حکومتی امور اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔



  تازہ ترین   
صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی منصوبے پر ایران کا جواب مسترد کردیا
ہمارا مسودہ ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے نہیں، ایران کا امریکہ کو دوٹوک جواب
ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر کے دورہ چین کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا
مذاکرات کا مقصد قومی حقوق کی جنگ لڑنا ہے، سر تسلیم خم کرنا نہیں: ایرانی صدر
ایرانی وزیر خارجہ اور نیدرلینڈز کے ہم منصب کا رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو
بھارت ایک بار پھر دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے، ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے: فیلڈ مارشل
مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں استحکام ممکن نہیں: صدر، وزیراعظم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر