اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)سابق وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ابھی نندن کے معاملے پر سابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے بانی پی ٹی آئی کوفون کیا تھا،ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں صحیح رائے نہیں رکھتے تھے وہ مودی کو ایک احمق آدمی سمجھتے تھے اور وہ انکا مذاق اڑاتے ۔ بڑا انکشاف کر ڈالا، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ابھی نندن کے معاملے پر ڈونلڈٹرمپ نے بانی پی ٹی آئی کوفون کیا تھا۔ سابق صدر ٹرمپ نے تنائو کم کرنے کا کہا تھا۔سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ سابق صدر ٹرمپ نے ابھی نندن کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی کو فون کیا تھا اور تنا ئوکو کم کرنے کا کہا تھا ۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ بحران بھارت نے شروع کیا ہے لیکن اس کو مزید نہ بڑھایا جائے ۔فواد چوہدری نے کہا کہ صدر ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں صحیح رائے نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ مودی کا زبردستی گلے لگنا انگریزپسند نہیں کرتے۔ وہ مودی کو ایک احمق آدمی سمجھتے تھے اور وہ انکا مذاق اڑاتے تھے۔سابق وزیراطلاعات نے بتایا کہ نریندرمودی نے مسئلہ کے حل کاموقع ضائع کیا کیونکہ بانی پی ٹی آئی تعلقات بہتر کرناچاہتے تھے، تعلقات بہترہونے سے پاکستان اوربھارت دونوں کوفائدہ ہوگا لیکن زیادہ فائدہ بھارت کوہوگا، ہم بھارت سے تعلقات برابری کی بنیاد پرچاہتے ہیں۔سابق وزیراطلاعات نے بتایا کہ میں کسی کو سپورٹ نہیں کرتا، ہرجگہ انتہاپسندوں کی سوچ ایک جیسی ہوتی ہے۔ اگر مودی 1971 میں ہوتے تو شاہد انڈیا ٹوٹ گیا ہوتا۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ مسئلہ کشمیرحل میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ انہوں نے پہلے بابری مسجد کو شہید کیا ، پھر دبئی میں مندر کا افتتاح کیا اور اب اورنگزیب عالم گیر کی مسجد گرا رہے ہیں لیکن ہمارا دفتر خارجہ چپ سادھ کے بیٹھا ہوا ہے اور نہ ہمارے کسی مسلم ممالک نے مذمت کی الٹا مندر کا افتتاح کروایا جا رہا ہے۔
ابھی نندن کے معاملے پر ڈونلڈٹرمپ نے بانی پی ٹی آئی کوفون کیا تھا، فواد چوہدری



