نارووال(نیشنل ٹائمز ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم نہ ہوتے تو آج ہم اس مقام پر نہیں پہنچتے لیکن لیپ ٹاپ کی تقسیم پر ایک سیاستدان نے ہمارا مذاق اڑایا، ایک نااہل سیاست دان کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے۔۔ نارووال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے سیاسی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی سوچ سے قطع نظر میرٹ پر نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے اور چاہے اس نوجوان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، اسے میرٹ پر لیپ ٹاپ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہے وہ حکمرانی جسے گڈ گورننس کہتے ہیں، جس میں میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جاتے ہیں اور اس میرٹ کو سیاسی نظر سے نہیں دیکھتے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ سے یہ سوچ رکھتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ یہ نوجوان ہیں، اگر پاکستان کا مستقبل محفوظ کرنا ہے تو نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بہترین تعلیم اور اسکلز دے کر تیار کرنا ہے. احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم نے نوجوانوں میں عدم برداشت، گالم گلوچ، انتشار اور محاذ آرائی کا کلچر فروغ نہیں دیا بلکہ انہیں پڑھائی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور بہترین تربیت کے مواقع دیے جس کا ثبوت یہ نارووال کی یہ یونیورسٹی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر وہ طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں جن کے والدین ان کی پڑھائی کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے تھے یا پھر وہ انہیں تعلیم کے لیے دوسرے شہر نہیں بھیجنا چاہتے ہیں، ہم نے نارووال کو علم کی بستی بنانے کا مشن شروع کیا کہ یہاں کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آج یونیورسٹی آف نارووال پاکستان میں تعلیم کے ذریعے سماجی، معاشرتی ومعاشی ترقی کی ایک مثال بن چکی ہے، آج یہاں 7 ہزار کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں، ان میں 5 ہزار طالبات ہیں، اگر یہ جامعہ نہیں ہوتی تو شاید ان بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا، جب کہ یہی بچیاں یہاں سے پڑھ کر چین اور امریکا میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے یہ موقع دیا کہ آج نارووال میں جامعات سمیت دیگر منصوبوں کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں کی نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی میں انقلاب برپا ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018کے بعد پاکستان کے ساتھ ناٹک کھیلا گیا، ایک اناڑی کو دھاندلی کے ذریعے ملک کی چابیاں دی گئیں، نوازشریف کو نااہل کردیا گیا،پاکستان کی معیشت کا ستیاناس اور بیڑا غرق کردیا گیا، سی پیک جیسا منصوبہ ہم سے چھن گیا، انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے مجھے بھی جیل میں ڈالا گیا۔احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی 4سال حکومت تھی، جوسیاہ سفید کے مالک تھے،جسے چاہتے تھے پکڑ کر اندر کردیتے تھے، ہم پر قرضوں کی ادائیگی 8ہزار ارب ہے، ہمیں قرضے ادا کرنے کیلئے 1ہزار ارب ادھار لینے کی ضرورت ہے، یہ ورثہ آج اڈیالہ جیل میں بیٹھا قرضے چھوڑ کر گیا ہے، اس کی سزا 24کروڑ عوام بھگت رہے ہیں، ایک بندا انا اور حسد کی آگ میں جلتا تھا،اس کو یہ مقصود نہیں تھا کہ ملک میں بڑے منصوبے لگیں۔
ایک نااہل سیاست دان کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے، احسن اقبال



