رفح (نیشنل ٹائمز ) جنوبی غزہ کے رفح علاقے کی مرکزی ایمرجنسی کمیٹی نے کہا ہے کہ رفح شہر پر صیہونی فوج کے زمینی حملے کے آغاز سے اب تک تقریبا 120 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ رفح کی مرکزی ایمرجنسی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ رفح شہر میں صیہونی حکومت کی نسل کشی میں تقریبا تیس فلسطینی شہری شہید ہوئے جبکہ اس شہر میں شہدا کی تعداد دو ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زمینی آپریشن کے آغاز سے اب تک تقریبا 120 افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کمیٹی نے اس بات پر تاکید کی کہ صیہونی حکومت کی طرف سے غزہ پٹی کے مختلف علاقوں پر بمباری کی وجہ سے ہزاروں باشندے صوبے کے مرکز اور مغرب کی طرف نکل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں جہاں بے گھر ہونے والے افراد مقیم ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے مختلف علاقے بالخصوص رفح پر صیہونی حکومت کی شدید بمباری کی وجہ سے ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ اس کمیٹی نے کہا کہ رفح کراسنگ کی بندش سے ان شہریوں کی زندگیاں متاثر ہوں گی جو فوری طور پر امداد پر منحصر ہیں جنہیں غاصب صیہونی حکومت رفح کراسنگ سے داخل ہونے سے روک رہی ہے۔ رفح کی مرکزی ایمرجنسی کمیٹی نے مزید کہا کہ رفح کراسنگ کو بند کرنا رفح کے واحد کویتی اسپتال کے کام کو روکنے کے مترادف ہوگا جو کہ اب بھی ضرورت کی اشیا کی شدید قلت اور شہدا اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے محدود پیمانے پر کام کر رہا ہے۔
رفح پرحملے کے آغاز سیاب تک 120 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی



