رفح (نیشنل ٹائمز) اسرائیل کے غزہ کے جنوبی شہر رفح سے انخلا کے نئے احکامات کے نتیجے میں مزید دسیوں ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ۔ اسرائیلی فوج نے رفح بارڈر پر ٹینکوں کی تعداد بڑھا دی تھی جس کے بعد صیہونی فوج نے ایک بار پھر فلسطینیوں کو انخلا کے احکامات جاری کیے تھے۔ رفح کراسنگ پر اسرائیلی قبضے کے باعث اب تک ہزاروں فلسطینی وسطی غزہ منتقل ہوچکے ہیں۔ صدر جو بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا اسرائیل کو رفح پر حملہ کرنے کے لیے ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ اور دیگر ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ رفح پر اسرائیلی حملہ شہریوں کی ہلاکتوں میں تباہ کن اضافے کا سبب بنے گا۔ 10 لاکھ سے زائد فلسطینی اسرائیلی فوج کی بمباری سے فرار ہونے کے بعد رفح کے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، یہ شہر غزہ کا آخری پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل کے انخلا کے حکم کے بعد ہزاروں فلسطینی رفح سے نقل مکانی پر مجبور



