لاہور(نیشنل ٹائمز)سابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات حل کئے بغیر معاشی معاملات ٹھیک نہیں ہوسکتے، بجٹ خسارے کی تمام سیاسی جماعتیں اور حکومتیں ذمہ دار ہیں، ایس آئی ایف سی باہر سے سرمایہ لانے کے ساتھ تعلیم پر توجہ دے، خسارہ کم کرنے کی حکمت عملی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا باقر نے کہا کہ سابق گورنر سٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ ایس آئی ایف سی باہر سے سرمایہ لانے کے ساتھ تعلیم پر توجہ دے، خسارہ کم کرنے کی حکمت عملی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ 2007 سے ہمارا قرضہ بڑھتا گیا، قرضہ اس لئے لیا کہ اخراجات آمدن کے برابر نہیں۔ 17 سال سے قرضہ بڑھ رہا ہے تو اس میں حکومت کا مسئلہ ہے، خسارے کو کم کرنا کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں۔رضا باقر نے کہا کہ پاکستان میں ایک ہزار بچوں میں سے 62 پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں، ملک میں ہیپاٹائٹس 7 فیصد اور بنگلادیش میں زیرو فیصد ہے۔تقریب سے سابق گورنر سٹیٹ بینک شاہد حفیظ کاردار نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہم آج جس سٹیج پر پہنچے ہیں اس کے ہم خود ذمہ دار ہیں، پچھلے 45 سال سے ہمارے طرز حکومت ایسے ہی رہے ہیں۔ ہم خسارہ پورا کرنے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں۔ شاہد حفیظ کاردار نے کہا کہ ہمارے روپیہ پر دبائو بھی اسی وجہ سے رہا ہے، پیسے اکٹھے کرنے سے زیادہ ہمارے اخراجات زیادہ ہیں۔ 18ویں ترمیم کے باوجود 43 ڈویژن کام کر رہے ہیں۔ بیوروکریسی سیکریٹری بننے اور سیاستدان وزیر بننے کیلئے ان ڈویژن کو کم نہیں کر رہا، پنشن کے بقایا جات 25 کھرب تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے ایک ہزار چار سو سے زائد ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں، تمام منصوبے ختم کرنے میں 14 سال لگیں گے۔ ہم سے سمگلنگ نہیں رکتی، روزانہ 4 ہزار ٹن تیل سمگل ہوتا ہے، ہمارے اندرونی اور بیرونی قرضے حکومتی آمدن سے 6 سو 70 فیصد زیادہ ہیں، آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام سے قبل 8 ارب ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔
بجٹ خسارے کی تمام سیاسی جماعتیں اور حکومتیں ذمہ دار ہیں، رضا باقر



