اسلام آباد (نیشنل ٹائمز ) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈ کیس کے ٹرائل کے دوران ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے خلاف سیاسی، اشتعال انگیز، متعصبانہ بیان بازی سے روک دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے فئیر ٹرائل کی تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے خلاف بیان بازی سے روک دیا، عدالت نے دوران ٹرائل کمرہ عدالت میں ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے خلاف اشارتاً بات کرنے سے بھی روک دیا ہے۔
اس حوالے سے عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا سیاسی اشتعال انگیز بیانیے جو ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کو ٹارگٹ کرتے ہوں وہ پبلش کرنے سے پرہیز کرے، الزام ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ریاستی اداروں کی قابل عزت شخصیت کے خلاف سیاسی، اشتعال انگیز، متعصبانہ بیانات دیئے، عدلیہ، فوج اور آرمی چیف کے حوالے سے بیانات عدالتی ڈیکورم میں خلل ڈالنے کے مترادف ہیں، ایسے بیانات انصاف کی فراہمی کے عمل میں بھی رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ کورٹ ڈیکورم اور فئیر ٹرائل کے تقاضوں کا خیال رکھنا عدالت کی ذمہ داری ہے، جیل حکام جیل عدالت کو عید سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کریں، ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے حوالے سے اشارے سے بھی ملزمان سیاسی، اشتعال انگیز ، متعصبانہ بیانات نہیں دیں گے، میڈیا اپنی رپورٹنگ کو عدالتی پروسیڈنگ کی حد تک محدود رکھے گا، ٹرائل کی عدالتی کاروائی کے درمیان والے ملزمان کے بیانات میڈیا رپورٹ نہیں کرے گا۔



