پشاور (نیشنل ٹائمز) پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے پر توہین عدالت کیس میں صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو نوٹس جاری کردیئے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر ممبران سے حلف نہ لینے کے معاملے پر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا گیا۔
اس معاملے پر جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس ارشد علی نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ’عدالت نے مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران سے حلف لینے کا حکم دیا لیکن عدالتی حکم کے باوجود ممبران سے حلف نہیں لیا گیا، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے عدالت احکامات کی خلاف ورزی کی اس لیے دونوں خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے‘، بعد ازاں عدالت نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو نوٹس جاری کرکے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ادھر خیبرپختونخواہ اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی کا کہنا ہے کہ وہ نو منتخب اراکین اسمبلی کو حلف نہیں دلاسکتے، رول آف لاء پر یقین رکھتے ہیں، ہم اگر خلاف ورزی کریں گے تورول آف لاء سے کیا توقع کریں گے؟ عدلیہ کا فیصلہ موصول ہوا تو لیگل ٹیم کے ساتھ مشورہ کیا، اجلاس سمن نہیں ہوا اس لیے حکم پر عمل درآمد نہیں کرسکتے، ججزاورعدالیہ کا احترام کرتے ہیں، عدالیہ کے سامنے حقائق رکھنے آئے ہیں، اجلاس بلانے کے بعد ہی ممبران سے حلف لیا جاسکتا ہے، ہم ہر وقت اجلاس بلانے کیلئے تیار ہیں، عدالت حکم دے تو اجلاس بلائیں گے۔
بتایا جارہا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران سے حلف لینے کے حکم کے خلاف سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے نظرثانی درخواست بھی دائر کی ہے، علی عظیم آفریدی ایڈووکیٹ کی وساطت سے نظرثانی درخواست دائر کی گئی، درخواست میں صوبائی حکومت، الیکشن کمیشن، سیکریٹری قانون اور اپوزیشن ممبران فریق بنایا گیا، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران سے حلف لینے کا حکم دیا، اسمبلی اجلاس ہے نہ کوئی ریکوزیشن آئی ہے، ممبران سے حلف کیسے لیا جائے؟ عدالت فیصلے پر نظرثانی کرکے پہلے والی درخواستیں خارج کرے۔



