نئی دہلی (نیشنل ٹائمز ) بھارتی دوا ساز کمپنیوں کی ناقص کارکردگی عالمی سطح پر بے نقاب ہوگئی۔
ہندوستانی ادویات بنانے والی کمپنی Intas امریکہ کے لیے کینسرکی دوائیں بنا رہی تھی، اس کمپنی کے معیار میں شدید کمی سامنے آئی۔ ہندوستانی فارماکامعیاردن بدن گرتا جا رہا ہے،حال ہی میں امریکہ نے بھارت کے فارماسوٹیکل سسٹم کی خرابیوں کے باعث چین سے دواں کے لیے رابطہ کیا۔ نکی ایشیا کے مطابق بھارت کی ناقص ریگولیٹری نگرانی،اینالاگ پریکٹس اورڈیٹا کی سالمیت کیمسائل کی وجہ سیسینکڑوں بچوں موت کا شکار ہو رہے ہیں،بچوں میں غیر معیاری کھانسی کے شربت سے اموات اور عالمی منشیات کی تجارت بھارت میں ایک نیا موڑ لے رہی ہے۔
امریکی معالجین کا کہنا ہے کہ کینسر کی دوائیوں کی کمی ہزاروں اموات کا باعث بن سکتی ہے،اس بحران نے واشنگٹن کوچین کا رخ کرنے پرمجبورکردیا ہے جسکے لیے چینی فارماسیوٹیکل کو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کیانسپکٹرز کی ایک ٹیم مغربی بھارت میں ایک دوا ساز فیکٹری کی چھان بین کررہی تھی جس دوران یہ سب معاملات سامنے آئے۔ مینوفیکچرنگ اورڈرگ ٹیسٹنگ کے اعدادوشمار سے یہ ظاہر ہوا کہ Intas کے ایگزیکٹوز نے ڈیٹا میں ہیرا پھیری کی اور اسے چھپانے کی کوشش کی۔ ٹیسٹنگ کیچھ ماہ بعد ایف ڈی اے نے ادویات کو ملاوٹ والی قرار دیا اور پلانٹ سے درآمدات روک دی جس سے امریکہ میں کینسر سے زندگی بچانے والی ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ۔



