اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) مقامی گیس کی پیداوار میں 374ایم ایم سی ڈی ایف کمی واقع ہوئی ہے، اس طرح ملکی اقتصادیات کو 13ارب 34کروڑ 40لاکھ روپے (48ملین ڈالرز)ماہانہ نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔۳۲۹یم سی سی ایف ڈی کی آر ایل این جی کی لاگت سے مقابلے میں دیکھی جائے تو 50کروڑ ڈالرز 139ارب روپے بنتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اس کا اثر خام تیل کی پیداوار پر پڑتا ہے گیس کی کمی سے 5ارب روپے نقصان اور قومی خزانے کو 20ارب روپے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔اس بات کا انکشاف حالیہ دستیاب اعدادوشمار میں کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکام نے ایل این جی کی درآمد کو جواز دینے کے گیس کے مقامی کنویں بند کیے اور اسپاٹ ایل این جی کارکردگی کی درآمد منصفانہ ثابت کیا لیکن اس وقت دانشمندای کا مظاہرہ کیا گیا جب گزشتہ دنوں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں اسپاٹ ایل این جی کارگو نہ خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔
گیس کی پیداوار میں کمی، 4 ماہ میں 53 ارب روپے کا نقصان



