اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے درخواست گزار محمد طاہر حسن کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کی آئندہ میٹنگ میں درخواست گزار محمد طاہر حسن کی ترقی کو سول سرونٹس پروموشن رولز کے تحت زیر غور لایا جائے۔ عدالت نے کہا کہ بورڈ ایسی انٹیلی جنس رپورٹ کی پرواہ نہ کرے جس میں افسر کو محکمانہ سطح پر اپنے دفاع کا موقع نہ ملا ہو۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہےکہ یہ بات حیران کن ہے کہ قابل وزیراعظم لاپرواہی سے ایسا کیسے ہونے دے سکتے ہیں؟ بیوروکریسی کو ثبوت کے بغیر ایسی انٹیلی جنس رپورٹس کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ ان حالات میں وزیراعظم بیوروکریسی سے حکومت کی خدمت کی توقع کیسے رکھتے ہیں؟
انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر افسر کو ترقی نہ دینے کا سلیکشن بورڈ کا فیصلہ کالعدم قرار



