کوئٹہ(نیشنل ٹائمز) قومی شاہراہ پر چیک پوسٹ پر حملے میں سکیورٹی اہل کار شہید اور 11 زخمی ہو گئے،بلوچستان کے ضلع ژوب میں قومی شاہراہ پر واقع سبکزئی چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے حملہ کردیاجس سے ایک سیکورٹی اہلکار شہید جبکہ حملے میں10 افراد زخمی ہوئے ،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور زخمیوں کوفوری طورپر ہسپتال منتقل کر دیاگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔فورسز نے پورے علاقے کوگھیرے میں لے لیا اور واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔خیال رہے کہ چند روز قبل قلعہ سیف اللہ کے علاقے میں ڈپٹی کمشنر شیرانی کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی۔اسسٹنٹ کمشنر ژوب محمد نوید کے مطابق فائرنگ کا واقعہ قلعہ سیف اللہ کے علاقے میں پیش آیا تھاجہاں ڈی سی کے سکواڈ کی گاڑی پر تین گولیاں لگیں تھیں۔
اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ حملے میں ڈی سی شیرانی ثناءماہ جبین اور عملہ محفوظ رہاتھا۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ڈی سی کے اسکواڈ کی جوابی فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے تھے۔ لیویز حکام کے مطابق خاتون ڈپٹی کمشنر شیرانی ثناءماہ جبین کا قافلہ گزشتہ روز کوئٹہ سے ژوب جا رہا تھا قافلہ کو قلعہ سیف اللہ سے 50کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ تنگ حیدرزئی کے پہاڑی علاقے میں پہنچا تو پہاڑ پر موجود مسلح افراد نے شدید فائرنگ شروع کر دی تھی تاہم قافلے میں شامل لیویز اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی جس پر حملہ آور فرار ہو گئے تھے۔
قبل ازیں خیبرپختونخوا ہ کے ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیاتھا جس کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار شہید جبکہ 3 اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس کاکہنا تھا کہ وسطی کرم تھانہ مرغان کے علاقے مرغان تانگہ میں ٹل اسکاوٹس سے تعلق رکھنے والے ایف سی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیاتھا۔ حملے میں ایک ایف سی اہلکار نائیک مائب زادہ شہید جبکہ 3 اہلکار لانس نائیک لیاقت، لانس نائیک اشتیاق اور لانس نائیک مسعود زخمی ہوگئے جبکہ زخمیوں کو قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیاتھا۔ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بھی حملہ آوروں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے بعد حملہ آور علاقے سے فرار ہوگئے تھے۔



