اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے فوج کو دئیے گئے اختیارات کا مراسلہ جاری کر دیا،اسلام آباد میں تعینات پاک فوج کے دستوں کو شرپسند عناصر کے خلاف اسلحے کے استعمال اور گرفتاری کے اختیارات مل گئے۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر کارروائی کے تمام اختیارات پاک فوج کو حاصل ہوں گے،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ مقامی کمانڈر وفاقی پولیس کے ساتھ مل کر کارروائی کرے گا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی اور گرفتاری کے بھی اختیارات دئیے گئے ہیں۔مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج، آنسو گیس کی بھی اجازت ہو گی۔حالات کے مطابق پاک فوج اسلحہ کے استعمال سمیت انتہائی اقدام کی مجاز ہوگی۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ طاقت کا کم سے کم استمعال کیا جائے گا۔ شرپسندوں کی موجودگی یا خطرات کی اطلاع پر کارروائی کی جائےگی جبکہ پولیس کی عدم موجودگی میں فوجی اہلکار جرم میں ملوث افراد کو گرفتار کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزارت داخلہ نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی تعیناتی کے احکامات دئیے گئے تھے جن کے تحت پاک فوج کے دستوں کی اسلام آباد اور گرد و نواح میں تعیناتی کا عمل مکمل ہو چکا تھا۔وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ایس سی او سربراہ اجلاس کے موقع پر فوج وفاقی درالحکومت میں سیکیورٹی کی مکمل ذمہ داری سنبھالے گی۔
اسلام آباد میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج کے چاق و چوبند دستوں نے اسلام آباد کا کنٹرول سنبھال لیاتھا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کی سیکیورٹی کے سلسلے میں 5 سے 17 اکتوبر تک فوج کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم سمٹ کیلئے فوج کی تعیناتی آرٹیکل 245 کے تحت کی گئی ہے اور 5 سے 17 اکتوبر تک دارالحکومت میں فوج تعینات رہے گی۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے پیش نظر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے اسلام آباد میں فوج نے سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں تھیں۔پاک فوج کے دستوں نے ڈی چوک کا کنٹرول سنبھال رکھا تھا۔ پاک فوج کے دستوں کا ڈی چوک سمیت ریڈ زون میں گشت جاری تھا۔



