کوپن ہیگن (نیشنل ٹائمز) ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اسرائیل کے سفارت خانے کے قریب دو دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ دھماکوں کی تحقیقات کر رہی ہے. برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کوپن ہیگن پولیس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا ہے کہ دھماکوں میںکوئی بھی زخمی نہیں ہوا ہے اور ہم جائے وقوعہ پر ابتدائی تحقیقات کر رہے ہیں فرانسیسی ادارے نے بھی ڈنمارک میں اسرائیل کے سفارت خانے کے باہر دو دھماکوں کی خبر دی ہے۔
کوپن ہیگن پولیس کے مطابق علاقے میں واقع اسرائیلی سفارت خانے کے ساتھ ممکنہ تعلق کی تحقیقات کی جا رہی ہیں مقامی ذرائع ابلاغ میں بڑی تعداد میں پولیس موجودگی اور وسیع علاقے کو گھیرے میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں مقامی چینل ”ٹیبلوئڈ بی ٹی“ کی رپورٹ کے مطابق تحقیقات کاروں کو شواہد کے لیے موقع کا معائنہ کرتے ہوئے مکمل لباس میں دیکھا گیا رابطہ کرنے پر اسرائیلی سفارت خانے سے فوری طور پر تبصرے کے لیے کو دستیاب نہیں تھا۔
پولیس نے کہا کہ وہ تحقیقات کے بارے میں جلد معلومات فراہم کریں گے ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر جیکب ہینسن نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ اسرائیلی سفارت خانہ بالکل قریب ہے اور یہ ایک پہلو ہے جس پر ہم یقینی طور پر غور کر رہے ہیں. پولیس ترجمان نے جائے وقوعہ پر صحافیوں کو بتایا کہ کوئی زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور یہ کہنا ابھی بہت جلدی ہے کہ دھماکوں کی شدت کتنی تھی دوسری جانب عراق میں امریکی سفیر الینا رومنوسکی نے اعلان کیا کہ بغداد میں ڈپلومیٹک سپورٹ کمپلیکس پر کل کو حملہ کیا گیا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا رومانووسکی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ گذشتہ رات بغداد میں ڈپلومیٹک سپورٹ کمپلیکس پر حملہ کیا گیاجو کہ ایک امریکی سفارتی مرکز ہے انہوں نے لکھا کہ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ امریکہ نے 2014 میں داعش سے لڑنے کے لیے قائم کیے گئے اتحاد کے ایک حصے کے طور پر عراق میں تقریباً 2500 فوجی اور پڑوسی ملک شام میں 900 فوجی تعینات کیے ہیں اس اتحاد میں دیگر ممالک بالخصوص فرانس اور برطانیہ کی افواج بھی شامل ہیں۔



