بیروت(نیشنل ٹائمز) لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کی تصدیق کردی،عالمی میڈیا کے مطابق حزب اللہ نے اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی اسرائیلی حملے میں شہادت کی تصدیق کردی ہے۔ ان پر ایک روز قبل جنوبی بیروت میں اسرائیل نے حملہ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ شہید ہوگئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل حزب اللہ نے ان کی شہادت کی تصدیق نہیں کی تھی اور کہا تھا کہ ان سے رابطہ ممکن نہیں ہورہا تاہم اب کچھ دیر قبل حزب اللہ نے اپنے لیڈر کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔
اسرائیل فوج نے کچھ دیر قبل بیروت حملے میں حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔تاہم اب حزب اللہ نے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کی تصدیق کردی۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حسن نصر اللہ شہید ہوگئے۔ حزب اللہ کا کہنا تھاکہ اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔اسرائیل نے بیروت حملے میں حزب اللہ سربراہ کی بیٹی زینب نصراللہ کی بھی شہادت کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کے مطابق حزب اللہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حسن نصر اللہ سے رابطہ گزشتہ شام سے منقطع ہے تاہم ذرائع نے ان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق بھی نہیں کی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رائٹرز کے صحافیوں نے بیروت میں ہفتے کی صبح طلوع ہونے سے پہلے اور طلوع آفتاب کے بعد 20 سے زیادہ فضائی حملوں کی آوازیں سنی۔ حزب اللہ کے زیر کنٹرول جنوبی مضافاتی علاقوں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا جب کہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کہ بیروت حملوں میں حسن نصر اللہ مارے گئے ہیں۔
حسن نصراللہ اپنے پیشرو عباس الموسوی کے اسرائیلی گن شپ ہیلی کاپٹر سے قتل کے بعد 1992 میں صرف 32 سال کی عمر میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے تھے۔انہوں نے عراق کے شہر نجف میں تین سال تک سیاست اور قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ یہیں ان کی ملاقات لبنانی امل ملیشیا کے رہنماسید عباس موسوی سے ہوئی، 1978 میں حسن نصراللہ کو عراق سے بے دخل کر دیا گیا۔لبنان کے خانہ جنگی کی لپیٹ میں آنے کے بعد حسن نصراللہ نے امل تحریک میں شمولیت اختیار کر لی انہیں وادی بقاع میں امل ملیشیا کا سیاسی نمائندہ مقرر کیا گیا۔اسرائیلی فوج کے 1982 میں بیروت پر حملے کے بعد حسن نصراللہ امل سے علیحدہ ہوکر حزب اللہ میں شامل ہوئے۔



