نیویارک (نیشنل ٹائمز) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دنیا کی توجہ غزہ میں جاری مظالم کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں بلا تعطل ایک ڈرانا خواب جاری ہے، فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی سزا بلاجواز ہے،انہوں نے لبنان کے ایک اور غزہ میں تبدیل ہونے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان جنگ کے دہانے پر ہے اور ہم اس کے ایک اور غزہ بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے79 ویں اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔یو این سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ہم سب کو بڑھتی ہوئی اشتعال انگریزی کے خطرے کو محسوس کرنا چاہیے، لبنان جنگ کے دہانے پر ہے، لبنان کے لوگ، اسرائیل کے عوام اور دنیا بھر کے لوگ، لبنان کے ایک اور غزہ بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ غزہ ایک نہ ختم ہونے والا ڈرانا خواب بن چکا ہے جس کے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خطرہ ہے، ہمیں اسے لبنان سے آگے بڑھنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔انہوں نے یوکرین، غزہ کی پٹی اور سوڈان میں جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتوں اور دوسرے گروپوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی مذمت کی جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ سزا سے بچ جائیں گے اور اس کے حقدار بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومتیں اور گروپ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کو پامال کر سکتے ہیں، وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں، وہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کر سکتے ہیں، پورے معاشرے کو تباہ برباد کر سکتے ہیں یا اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کو بالکل نظر انداز کر سکتے ہیں اور ان کو کچھ نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ان جرائم میں ملوث عناصر کو دنیا بھر میں حاصل استثنی سیاسی طور پر ناقابل دفاع اور اخلاقی طور پر ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی چیز 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں یا شہریوں کو یرغمال بنانے کا جواز پیش نہیں کر سکتی اور میں دونوں واقعات کی بارہا مذمت بھی کر چکا ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی چیز فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دینے کا جواز بھی پیش نہیں کر سکتی۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور معاشرے کی تباہی کی قیمت شہری ادا کررہے ہیں لہذا یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی منصفانہ امن کا وقت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ عالمی برادری غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھائے اور دو ریاستی حل کو کامیاب بنائیں۔پیر تک جاری رہنے والے اقوام متحدہ کے اجلاس سے 100 سے زائد سربراہان مملکت اور ان کے نمائندے خطاب کریں گے۔
غزہ میں بلا تعطل ایک ڈرانا خواب جاری ہے، لبنان جنگ کے دہانے پر ہے، ایک اور غزہ بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے، انتونیو گوتریس



