تائی پے (نیشنل ٹائمز) لبنان میں حزب اللہ کے تائیوان سے درآمد شدہ پیجرز کے دھماکوں سے بچوں اور خواتین سمیت 11 افراد جاں بحق جبکہ ڈھائی ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ لبنان کی حزب اللہ نے 5000 ہزار پیجز تائیوان سے درآمد کیے تھے۔ حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑائی میں اب تائیوان بھی شریک ہوگیا ہے۔ ادھر مذکورہ واقعہ کے بعد تائیوان میں بڑے پیمانے پر تحقیقات، گرفتاریاں اور تفتیش شروع ہوگئی ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تائیوان کے تفتیش کاروں نے تائیوان کی کمپنیوں کے دو افراد سے متعدد بار پوچھ گچھ کی ہے۔شیلن ضلع کے پراسیکیوٹرز کے دفتر نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ہمارا ملک اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے، ہم نے انویسٹی گیشن بیورو کے نیشنل سیکورٹی سٹیشن کو ہدایت کی کہ وہ کل تائیوان کی کمپنیوں کے دو لوگوں سے بطور گواہ انٹرویو لیں۔
دونوں گواہوں کو کئی بار پوچھ گچھ کے بعد جانے کی اجازت دی گئی۔دفتر نے کہا کہ ہم حقائق کو جلد از جلد واضح کریں گے جیسے کہ تائیوان کی کمپنیاں ملوث ہیں یا نہیں، دفتر نے کہا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ تفتیش کاروں نے چار مقامات کی تلاشی لی، بشمول نیو تائی پے سٹی کے زیزی ضلع گولڈ اپولو جہاں گولڈ اپولو واقع ہے۔اس ہفتے کے شروع میں گولڈ اپولو کی کمپنی نے کہا کہ میڈیا رپورٹس میں ذکر کردہ پیجر ماڈل بی اے سی کے ذریعہ تیار اور فروخت کیا جاتا ہے۔لیکن ہنگری کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ BAC Consulting KFT ایک تجارتی ادارہ تھا، جس کی ہنگری میں کوئی مینوفیکچرنگ یا آپریشنل سائٹ نہیں تھی۔
لبنان میں پیجرزدھماکوں کے بعد تائیوان میں گرفتاریاں، تفتیش



