غزہ (نیشنل ٹائمز) اسرائیل نے اپنے ہزاروں فوجی غزہ سے لبنان کی سرحد پر منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد وہ اپنے تقریبا 10سے 20ہزار فوجی غزہ کی پٹی سے لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر منتقل کر رہی ہے جس میں98ویں ڈویژن میں شامل فوجیوں کے ساتھ پیرا ٹروپرز اور کمانڈوز اب شمالی کمان کے تحت 36ویں ڈویژن میں شامل ہوں گے.
عرب نشریاتی ادارے نے اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے حوالے بتایا ہے کہ بریگیڈ کو اصل میں غزہ میں لڑائی جاری رکھنا تھی لیکن لبنان کے ساتھ کشیدہ صورتحال کے باعث اسے وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیاواضح رہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران لبنان میں پیجرز دھماکوں کی لہر کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں. دوسری جانب لبنان میں پیجرز دھماکوں کے بعد ہزاروں واکی ٹاکی (ریڈیو)ڈیوائسز بھی اچانک دھماکوں سے پھٹنے کے واقعات پیش آئے ہیں جن سے ہلاکتوں کی تعداد 20ہوگئی ہے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈیوائسز میں دھماکوں کے دوسرے مرحلے میں گزشتہ روز اچانک لبنان کے مختلف علاقوں میں واکی ٹاکی یا ریڈیو ڈیوائسز میں دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 20ہوگئی ہے جب کہ 450سے زائد زخمی ہیں.
رپورٹس کے مطابق واکی ٹاکی دھماکے بازاروں، گھروں اور گزشتہ روز جاں بحق ہونے والے افراد کے جنازوں کے دوران بھی ہوئے جب کہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمیوں کے ہسپتال لائے جانے کے باعث ہسپتال شہریوں سے بھرگئے ہیں. عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں ہونے والے دھماکوں پر اسرائیلی حکام نے اب تک کوئی آفیشل بیان نہیں دیا مگر سکیورٹی ذرائع یہی بتاتے ہیں کہ ان دھماکوں کے پیچھے اسرائیلی ایجنسی موساد کا ہاتھ ہے پیجرز اور واکی ٹاکی دھماکوں کے بعد حزب اللہ کے ممبران اپنے زیر استعمال ان تمام ڈیوائسز کی بیٹریاں نکال کر انہیں دور رکھ رہے ہیں جنہیں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد درآمد کیا گیا.



