کراچی(نیشنل ٹائمز) کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے کارساز حادثے کی ملزمہ نتاشہ دانش کی منشیات کیس میں درخواست ضمانت مسترد کردی،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہد علی میمن نے درخواست پر فیصلہ سنایا،پولیس کے مطابق ملزمہ پر آئس کے استعمال کے الزام کے پیش نظر سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے، پولیس کی جانب سے ملزمہ کے خلاف دو مقدمات درج کئے گئے تھے۔
سیشن عدالت کے جج نے کہا تھا کہ ملزمہ نتاشہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ 13 ستمبر کو سنایا جائے گا تاہم اب عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ نتاشہ کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔واضح رہے کہ چند روز قبل بھی کراچی کی سٹی کورٹ نے کار ساز ٹریفک حادثے کی ملزمہ نتاشہ کی منشیات کیس میں درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے کار ساز حادثے میں ملزمہ نتاشہ کی جانب سے منشیات کے استعمال کے خلاف کیس کی سماعت کی تھی۔
سٹی کورٹ نے منشیات کیس میں ملزمہ نتاشہ کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔دوسری جانب عدالت نے کار سار حادثہ کیس میں ملزمہ نتاشہ کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا تھا۔عدالت نے حکم نامے میں کہا تھاکہ سرکاری وکیل کے مطابق کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ کے بنیاد پر امتناع منشیات ایکٹ کا مقدمہ درج کیا گیا، ملزمہ کے وکیل امتناع منشیات ایکٹ کے سیکشن 11 سے متعلق عدالت کو مطمئن نہ کرسکے تھے۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا تھاکہ امتناع منشیات ایکٹ کا اطلاق صرف شراب نوشی کی حد تک نہیں بلکہ اس کا دیگر اشیا کے استعمال پر بھی اطلاق ہوتا ہے، وکیل صفائی نے کیمیکل رپورٹ کی شفافیت سے متعلق سوال اٹھائے تھے۔حکم نامے میں مزید کہا گیاتھا کہ کیمیکل ایگزامینیشن کی رپورٹ ماہرین کی رائے پر مبنی ہے۔ آئس کے خون اور یورین کے نمونوں میں موجودگی کی مدت میں فرق ہوسکتا تھا۔
وکیل صفائی نے چھٹی کے باعث ملزمہ کے نمونوں کے غیرمحفوظ ہونے سے متعلق خدشات ظاہر کئے۔ پولیس ریکارڈ میں نمونوں کے غیرمحفوظ ہونے سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے تھے۔عدالت نے کہا تھاکہ متوفین کے قانونی ورثا کے این او سی اس مقدمے میں معنی نہیں رکھتے کیونکہ اس مقدمے کا مدعی سرکار ہے، آئس کا استعمال معاشرے بالخصوص نوجوانوں میں تیزی سے سرایت کررہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ معاشرے سے آئس جیسے نشے کی بیخ کنی کی جائے۔



