اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)سینیٹ سے اسلام آباد میں پرامن جلسے جلسوس کے انعقاد کا بل منظور کرلیا،ایوان میں بل پر شق وار رائے شماری ہوئی جس میں بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، حکومتی اجازت کے بغیر جلسہ جلوس کرنے یا اس میں شامل ہونے والوں کو تین سال تک جیل میں ڈالاجاسکے گا، اسلام آباد کے موضع سنگنجانی یا کسی بھی ایسے علاقے میں جلسہ جلوس کیا جاسکے گا جہاں حکومت اجازت دے گی،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد میں مخصوص جگہ پر پرامن جلسے جلوس کے انعقاد کا بل پیش کیا گیا۔
اس موقع پر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اس بل کا کسی جلسے سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم کسی پرامن جلسے کو روک نہیں رہے بلکہ ہم تو ان کو سہولت دے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ اسلام آباد میں ہمارا ایک جلسہ ہورہا ہے۔ اس جلسے کو روکنے کیلئے یہ قانون بنایا جارہا ہے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایک جگہ مختص کردی جائے گی۔
میڈیا بھی وہاں ہوگا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جلسے جلوس کےلئے کوئی ہائیڈ پارک جیسی جگہ بنادی جائے۔یاد رہے کہ دو روز قبل سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے اسلام آباد میں پ±رامن جلسے جلوس کے انعقاد کا بل منظور کرلیاگیاتھا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاو¿س میں ہواتھا۔
کمیٹی میں سینیٹر سلیم ایچ مانڈوی والا کی جانب سے پرامن اکٹھ اور امن عامہ بل 2024ءپیش کیا گیاتھا۔سینیٹرسلیم ایچ مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ہم جلسے جلوسوں کو قانون کے تحت لانا چاہتے ہیں۔ اکثر عدالت میں چیزیں چلی جاتی ہیں جس کے بعد عدلیہ اور انتظامیہ آمنے سامنے ہوتی ہے۔ کل کشمیر ہائی وے بلاک تھی اور ہم سارے سینیٹ اجلاس میں نہیں جاسکے۔
بیس پچیس لوگ تھے جنہوں نے کل سری نگر ہائی وے کو بلاک کر رکھا تھا، ڈپلومیٹک کور کے لوگ بھی پریشان ہیں۔ اس بل کو لانے میں کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے بل کے پیچھے کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ن لیگی سینیٹر عرفان صدیقی نے بل پر بحث کرتے ہوئے کہاتھا یہ بل اسلام آباد کی حد تک ہے۔ آج بھی اسلام آباد میں کنٹینرز لگے ہوئے ہیں لوگ پریشان ہیں۔ کوئی ایک جگہ مختص کردی جائے جہاں احتجاج کیا جاسکے۔بل لانے کا مقصد ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کو قانون کے مطابق لایا جائے۔ اسلام آبا دکے موضع سنگنجانی یا کسی بھی ایسے علاقے میں جلسہ جلوس کیا جاسکے گا جہاں حکومت اجازت دے گی۔ حکومتی اجازت کے بغیر جلسہ جلوس کرنے یا اس میں شامل ہونے والوں کو تین سال تک جیل میں ڈالاجاسکے گا۔



