اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سر زمین کے استعمال کے شواہد منظرِ عام پر آ گئے،سیکیورٹی ذرائع کیمطابق پاکستان کی طرف سے کئی بار افغان عبوری حکومت کو شواہد سے آگاہ کیا گیا، تاہم افغان عبوری حکومت خوارج کے خلاف ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام ہو چکی ہے،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تیرہ میں افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والا افغان شہری عبداللہ ولد نثار گرفتار ہوا ہے، عبداللہ کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق افغان ضلع ننگر ہار ولایت کے ضلع لالپورہ سے ہے،سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار افغان شہری عبداللہ نے بتایا کہ اس نے دہشت گردی کی ٹریننگ اپنے آبائی شہر ننگر ہار میں حاصل کی۔ گرفتار افغان دہشت گرد عبداللہ کا کہنا ہے کہ تربیت کے بعد مجھے پاکستان کے مختلف حصوں میں حملہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔عبداللہ کے مطابق پاکستان پر حملے کرنے والے 34افراد میں آئی ای ڈی کے ماہر بھی شامل تھے، پاکستان پر حملے کے لیے ان کے پاس وافر مقدار میں دھماکا خیز مواد موجود تھا۔ گرفتار افغان شہری عبداللہ نے بتایا کہ ستارہ بانڈہ پر حملے میں 10لوگ زخمی، 15ہلاک اور باقی کمانڈر بھاگ گئے۔گرفتار افغان دہشت گرد عبداللہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد مجھے پاکستانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔
پاکستان میں دہشتگردی کیلئے افغان سر زمین کے استعمال کے شواہد منظرِ عام پرآگئے



