اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی کابینہ نے رولز آف بزنس 1973 میں پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کی بندش کے حوالے سے ترمیم کی منظوری دے دی،وفاقی کابینہ نے پاکستان اور چین کے درمیان مین لائن-ون (ایم ایل-ون) معاہدے کے فنانسنگ معاہدے کی منظوری دے دی، وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں کابینہ نے 2 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دے دی۔
کابینہ اجلاس میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے گزشتہ روز اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے رولز آف بزنس 1973 میں پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کی بندش کے حوالے سے ترمیم کی منظوری دی جس کے بعد محکمہ غیر فعال ہوگیا۔
کابینہ اجلاس میں حکومت پاکستان نے ایم ایل ون کے پہلے فیز پر عملدرآمد کا فیصلہ کیاگیا۔
کابینہ نے چین پاکستان ریلوے کے درمیان فنانسنگ معاہدے کی منظوری بھی دے دی۔ اجلاس میں رولز آف بزنس 1973 میں ترمیم منظوری کیلئے پیش کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جون میں پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کو ناقص کارکردگی اور کرپشن پر فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔پی ڈبلیو ڈی اسلام آباد میں وزیراعظم ہاو¿س، ایوان صدر، سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ، الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت متعدد سرکاری عمارتوں کی دیکھ بھال اور تزئین و آرائش کا کام کرتا ہے، اس محکمے میں 6610 ملازمین کام کر رہے ہیں۔
پی ڈبلیو ڈی تعمیرات کے علاوہ تحقیقاتی اداروں نیب اور ایف آئی اے کو انکوائریوں میں تکنیکی معاونت جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذخائر کی تصدیق میں بھی مدد کرتا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم نے پاک پی ڈبلیو ڈی کی بندش کا حکم دیدیاتھا۔سٹیبلیشمنٹ ڈویژن نے ادارے کو بند کرنے کے حوالے سے سمری تیار کرلی تھی۔سمری کے مطابق پاک پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین سول سرونٹ کو سرپلس پول میں ڈالا جائے گا، نان سول سرونٹ ملازمین کو ان کے رولز کے مطابق دیکھا جائے گا، کنٹریکٹ ملازمین کو ان کے کنٹریکٹ کے مطابق دیکھا جائے گا۔
سٹیبلیشمنٹ ڈویڑن پاک± پی ڈبلیو ڈی کے اثاثوں سے متعلق معاملات دیکھے گی۔ وزارت ہاوسنگ پی ڈبلیو ڈی محکمے سے متعلق انٹرنیشنل کنسلٹنٹ سے بات بھی کرسکتی ہے۔منسٹریل کمیٹی بھی پاک پی ڈبلیو ڈی سے متعلق معاملات دیکھ سکتی ہے، اسٹیبلیشلمنٹ ڈویڑن نے سمری وزارت ہاوسنگ کو ارسال کر دی تھی۔



