اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) سپریم کورٹ آف پاکستان میں مبارک ثانی ضمانت کیس میں حکومت کی نظرثانی درخواست پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ میڈیا کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہ میں تین رکنی بنچ نے وفاقی حکومت کی نظرثانی درخواست کی سماعت کی، سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرلی ہے۔ سپریم کورٹ نے نظرثانی فیصلوں کے پیراگراف 7 ، 42 اور 49سی کو حذف کردیا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پڑھ کر سنایا۔فیصلے میں کہا کہ مبارک ثانی نظرثانی فیصلے کے حذف پیراگراف کو بطور عدالتی نظیر پیش نہیں کیا جاسکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی غلطی سے مبرا نہیں ہیں ،ہم سے غلطی ہو تو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے اصلاح کی جائے، تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے 24جولائی 2024کے فیصلے میں تصحیح کیلئے وفاق کی متفرق درخواست آئی ، اس مقصد کیلئے پارلیمان نے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی تھی، وفاق کی درخواست میں بعض جید علماکرام کا نام لے کراستدعا کی گئی تھی۔
استدعا کی گئی تھی کہ علماء کرام کی آرا ء کو مدنظر رکھا جائے۔وفاق کی درخواست منظور کرتے ہوئے علماء کرام کو نوٹس جاری کیا گیا۔ پروفیسر ساجد میر اور مولانا محمود اعجاز مصطفی بھی بوجوہ پیش نہیں ہوسکے، مفتی منیب الرحمان، حافظ نعیم الرحمان بھی پیش نہیں ہوئے۔ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیراور ڈاکٹر عطاالرحمان عدالت میں پیش ہوئے۔ فیصلے کا تفصیلی تحریری حکم بعد میں جاری کیا جائے گا۔
اس سے قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ہر نماز میں دعا کرتا ہوں اللہ مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ کروائے، جس دن لگا دباؤ میں آکر فیصلے کررہا ہوں اُس دن گھر چلا جاؤں گا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مبارک ثانی کیس میں پنجاب حکومت کی مخصوص پیراگراف کو حذف کرنے کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے، سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی میں جب آپ نے فیصلہ دیا تو پارلیمنٹ اور علمائے کرام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کر کے کہا حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے خط ملا اور وزیراعظم کی جانب سے بھی ہدایات کی گئیں تھی، دوسری نظرثانی تو نہیں ہو سکتی اس لیے ضابطہ دیوانی کے تحت آپ کے سامنے آئے ہیں، فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے تو فریقین عدالت میں اور ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے ہیں کیوں کہ معاملہ مذہبی ہے تو علمائے کرام کو سن لیا جائے۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہر نماز میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ کروائے، انسان اپنے قول و فعل سے پہچانا جاتا ہے، پارلیمان کی بات سر آنکھوں پر ہے، آئین کی 50 ویں سالگرہ پر میں خود پارلیمنٹ میں گیا، میری ہر نماز کے بعد ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ کوئی غلط فیصلہ نہ ہو، آپ کا شکریہ کہ آپ ہمیں موقع دے رہے ہیں، ہم نے مفتی تقی عثمانی سے بھی معاونت کا کہا تھا لیکن وہ ترکیہ میں ہیں۔
دوران سماعت مولانا تقی عثمانی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی یا اعتراض ہے تو ہمیں بتائیں؟ دیگر اکابرین کو بھی سنیں گے‘، اس پر مفتی تقی عثمانی نے بتایا کہ ’فروری کے فیصلے اور نظرثانی پر بھی تبصرہ بھیجا، مجھے نہیں معلوم آپ تک میری رائے پہنچی یا نہیں‘، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’ہم وہ منگوالیں گے لیکن زبانی طور پر بھی آپ کو سننا چاہتے ہیں کیوں کہ فروری کا فیصلہ نظرثانی کے بعد پیچھے رہ گیا ہے، اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہیے‘۔
انہوں نے کہا ’میرا مؤقف ہے کہ ہم امریکہ اور برطانیہ کی مثالیں دیتے ہیں اپنی کیوں نہ دیں؟ میں قرآن مجید ،احادیث اور فقہ کا حوالہ دیتا ہوں مگر شاید میری کم علمی ہے، اگر سب علمائے کرام کی رائے فیصلے میں شامل ہوتی تو فیصلہ نہیں کتاب بن جاتی، نظر ثانی فیصلے میں بتائیں کون سے پیراگراف غلط ہیں؟‘، اس پر مفتی تقی عثمانی نے پیراگراف 7 اور 42 میں غلطی کی نشاہدہی کی اور 29 مئی کے فیصلے سے یہ دونوں پیراگراف حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ’نظرثانی فیصلے میں شروع کے پیراگراف درست ہیں اور یہ طے شدہ ہیں، آپ نے فیصلے میں لکھا کہ احمدی نجی تعلیمی ادارے میں تعلیم دے رہا تھا، تاثر مل رہا ہے وہ نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم دے سکتے ہیں جب کہ کسی غیر مسلم کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے تبلیغ کی اجازت نہیں، قادیانی اقلیت میں ہیں لیکن خود کو غیر مسلم نہیں تسلیم کرتے‘۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’تقی عثمانی صاحب میں معذرت چاہتا ہوں، وضاحت کرنا چاہتا ہوں جنہیں نوٹس کیا تھا ان کی جانب سے ہمیں بہت سارے دستاویزات ملے، ان تمام دستاویزات کو دیکھ نہیں سکا وہ میری کوتاہی ہے، اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو ہم سوال کریں گے، ہمارا ملک اسلامی ریاست ہے اس لیے عدالتی فیصلوں میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں، میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں‘۔



