اسرائیلی فوج کے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخائر پر حملے جاری

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے لبنان کی وادی بقاع میں ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخیرے پر بمباری کی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے ایک بڑے گڑھ میں اسلحے کے ڈپو پر منگل کی شب کیا گیا یہ تازہ ترین فضائی حملہ تھا۔

یہ فضائی حملہ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلینٹ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا، ”لبنان میں اسلحہ کے گوداموں پر حملے آنے والے دنوں میں پیشں آنے والی کسی بھی ممکنہ صورت حال کی تیاری ہے۔

‘‘ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان گزشتہ دس ماہ سے غزہ جنگ کے متوازی ایک لڑائی جاری ہے۔


غزہ پٹی کا تنازعہ کئی دوسرے محاذوں تک پھیل چکا ہے اور اس کے مشرق وسطیٰ کے پورے خطے کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لینے کا خدشہ بھی ہے۔

لبنان میں سکیورٹی ذرائع کے ذریعے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ منگل کو ہتھیاروں کے ڈپو کو ہی نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ حملہ وادی بقاع میں مشرقی شہر بعلبک کے قریب ایک رہائشی علاقے میں کیا گیا۔ یہ زیادہ تر شیعہ مسلمانوں کی آبادی والا علاقہ ہے، جہاں حزب اللہ کے لیے کافی زیادہ حمایت پائی جاتی ہے۔


لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے یا جنگجو۔

اسرائیل جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور راکٹ لانچنگ سائٹس پر باقاعدگی سے بمباری کرتا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گزشتہ اکتوبر سے شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے لبنان میں تقریباً 622 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں حزب اللہ کے 416 جنگجو اور 132 عام شہری شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے اسلحے کے ڈپوؤں کو نشانہ بنانے کے عمل میں حال ہی میں تیزی آئی ہے۔

اس سے قبل بھی ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے عسکریت پسندوں کے زیر استعمال ہتھیاروں کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا تھا۔ لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے بتایا تھا کہ اس حملے میں دو بچوں سمیت کم از کم دس شہری مارے گئے تھے۔

پیر کو دیر گئے ایک اور فضائی حملے میں بھی شام کی سرحد سے متصل بقاع کے علاقے میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تین سکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ جولائی میں اسرائیل نے جنوبی لبنان کے قصبے عدلون میں حزب اللہ کی ملکیت گولہ بارود کو ذخیرہ کرنے والے ایک اور ڈپو پر بھی بمباری کی تھی۔



  تازہ ترین   
قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ
امریکہ-ایران جنگ بندی ہوگئی، 60 دنوں میں مستقل معاہدے کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کر لی
صدر مملکت کا سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے پر خواتین کو خراجِ تحسین
منجمد فنڈز سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کوئی لازمی شرط نہیں، ایران
ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر