اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سپریم کورٹ نے کل سماعت کے لیے مقرر الیکشن ٹربیونل کیس کو ڈی لسٹ کر دیا، کیس ڈی لسٹ کرنے کا نوٹس جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل کی عدم دستیابی کے باعث کیس ڈی لسٹ کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے 19 اگست کو سماعت کرنا تھی جب کہ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بھی التواء کی درخواست دائر کی تھی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سینئر وکیل حامد خان 6 ستمبر تک بیرون ملک ہیں، حامد خان چھٹی کی درخواست بھی دے چکے ہیں، ان کی واپسی تک مقدمہ ملتوی کیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سلمان اکرم راجہ نے پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز کو فعال بنانے کیلئےبھی 4 جولائی کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی،درخواست گزار نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے تعینات ججز کا فیصلہ درست تھا، الیکشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تعینات ججز کو نا ماننے کے پیچھے قانونی جواز نہیں، سپریم کورٹ کے دو ججز نے الیکشن کمیشن کا موقف غلط قرار دیا کہ ان کے پاس ٹریبونلز کیلئے ججز منتخب کرنے کا اختیار ہے۔
ان کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ 4 جولائی کو جاری فیصلے میں الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی گئی، سپریم کورٹ نے مشاورت کے حوالے سے کوئی گائیڈ لائنز مہیا نہیں کیں، چیف جسٹس کی جانب سے کسی بھی جج کی تعیناتی کو سب سے معتبر تصور کیا جاتا ہے، پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز میں کام کرنے والے ججز کے دائرہ کار کا تعین کرنے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ کے پاس ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنا درست نہیں۔
سلمان اکرام راجہ نے اپیل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے تعینات ججز کی نامزدگی معطل نہیں کی، لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے نامزد ججز ہی موجود ہیں، الیکشن کمیشن لاہور ہائیکورٹ سے نامزد ججز پر مشاورت کرے اور وجوہات پیش کرے،مشاورت کا مطلب الیکشن کمیشن نامزد ججز پر ٹھوس وجوہات پیش کرے،الیکشن کمیشن کے پاس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نامزد ججز کی تعیناتی کو نہ ماننے کا اختیار نہیں، پنجاب میں کام جاری رکھنے والے الیکشن ٹریبونلز کو بحال کیا جائے۔



