اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کی اجازت بالکل بھی نہیں دی جائے گی، قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اورشعبے کی اصلاحات کی اسٹرینگ کمیٹی کی خود صدارت کرونگا۔ وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور اصلاحات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ اعظم نے صنعت کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے اصلاحات کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں وفاقی وزرا جام کمال خان، خالد مقبول صدیقی، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، رانا تنویر حسین، مصدق ملک، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، چیف سیکریٹریز گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، کے پی نے بھی شرکت کی۔وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور اصلاحات کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی خود صدارت کروں گا۔وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ نجکاری عبدالعلیم خان کو اصلاحات کے نفاذ کی ذمے داری سونپ دی۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان میں کان کنی اور ویلیو ایڈیشن پائلٹ پراجیکٹ شروع کرے گی، گلگت بلتستان حکومت کو مکمل مالی معاونت فراہم کریں گے، قیمتی پتھروں کی روایتی طریقے سے کان کنی سے قیمتی اثاثہ ضائع کیا جا رہا ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ 1 ماہ میں لائحہ عمل تشکیل دے کر اس کے نفاذ کے لیے اقدامات شروع کیے جائیں، قیمتی پتھروں کی صنعت اور شعبے کی اصلاحات سے متعلق عملی اقدامات اور نتائج پیش کیے جائیں، قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کی اجازت بالکل بھی نہیں دی جائے گی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان حکومت سے مشاورت کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے، قیمتی پتھروں کی عالمی سطح پر رائج سرٹیفیکیشنز کے لیے اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی سے متعلق 178 بڑیلائسنسز دیے جا چکے ہیں، پاکستان میں 18 قیمتی پتھروں کی اقسام پائی جاتی ہیں، پاکستان کی قیمتی پتھروں کی برآمدات کا 80 فیصد حصہ خام مال پر مبنی ہے۔
قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کی اجازت بالکل بھی نہیں دی جائے گی، شہبازشریف



