اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی جیل میں بدسلوکی کے خلاف درخواست سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بجھوا دی ہے درخواست گزار کے وکیل کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بشری بی بی کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کیے، پہلا اعتراض تھا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل پنجاب حکومت کے ماتحت ہے دوسرا اعتراض ہے کہ اڈیالہ جیل حکام کے خلاف کارروائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر نہیں ہو سکتی۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس میں بشری بی بی کی درخواست پر اعتراض بدنیتی پر مبنی قراردیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ اسلام آباد سے نیب کے کیس میں گرفتار ہے اڈیالہ جیل اسلام آباد کے قیدیوں کی حد تک اسلام آباد کی جیل ہے رجسٹرار آفس کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ آئندہ درخواستوں پر ایسے فضول اعتراضات عائد نہ کیے جائیں۔
بعد ازاں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے سامنے یہ پٹیشن بطور درخواست رکھی جائے حکم دیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کریں واضح رہے کہ 8 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی عدت نکاح کیس میں بری ہونے کے باوجود رہا نہ کرنے اور جیل میں بدسلوکی کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف درخواست پر سماعت 12 اگست تک ملتوی کردی ۔
واضح رہے کہ 13 جولائی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں بانی تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی گرفتاری ڈال دی تھی ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون کی سربراہی میں نیب ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشری بی بی کو گرفتار کرلیا تھا نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے بشری بی بی نے نئے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے دوران ہونے والی بدسلوکی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیاہے۔



