راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے پاک فوج کے لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک دورن علاج شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز اور خوارجیوں کے درمیان 9 اگست کو فائرنگ کاتبادلہ ہوا تھا، اس دوران لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک خوارجیوں کیخلاف ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے زخمی ہوئے تھے۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک کو سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا تھا جہاں دوران علاج انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ لیفٹیننٹ عزیر محمود ملک شہید کی عمر 24 سال 8 ماہ تھی، ان کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔آئی ایس پی آ ر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسزدہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، بہادرافسروں وجوانوں کی قربانیاں ہماریعزم کومزیدتقویت دیتی ہیں۔9 اگست کو وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان تین مختلف مقامات پرفائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس میں 4 خوارج سیکیورٹی فورسز کی مثر کارروائی کے باعث ہلاک ہوگئے تھے۔تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 3 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جن میں ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والے حوالدار انعام گل، ضلع ٹانک کے سپاہی محمد عمران اور ضلع مردان کے سپاہی الطاف خان شامل ہیں۔
وادی تیراہ میں دہشتگردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں زخمی پاک فوج کے لیفٹینیٹ شہید ہوگئے، آئی ایس پی آر



