راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ ہم نے حالات کو اب تک کنٹرول میں رکھا ہے،ہمارامطالبہ بجلی بلوں میں کمی کا ہے، حکومت ہمارے احتجاج کو کمزور نہ سمجھے، ہر حکومت نے آئی پی پیز کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کو نقصان ہو، تنخواہ دار لوگ مزید ٹیکس برداشت نہیں کرسکتے، جو شخص پہلے سے ٹیکس دے رہا ہے وہ مزید ٹیکس کیسے برداشت کرے۔
راولپنڈی میں دھرنا شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پاکستان مزید کسی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔آج یہ دھرنا ایک بڑے جلسہ مارچ میں تبدیل ہوگا۔ 2ہفتے مکمل ہونے پر ہم ایک زبردست جلسہ کریں گے۔ ٹیکس کے بعد تنخواہ کی حیثیت اب رہ کیا گئی ہے؟۔ آٹا،چینی ،دال ،سٹیشنری اور ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا ہے۔
مڈل کلاس اور سفید پوش لوگ کہاں جائیں گے؟ کیا لوگ ڈاکو بن جائیں،نوجوانوں کو اس کام پر نہ لگاو¿۔
ایف بی آر کو کھلی چھوٹ،عدالتی اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹر کہتا ہے ہم ٹیکس دے سکتے ہیں۔ ایکسپورٹر چاہتے ہیں ڈائریکٹ ٹیکس لے لیں ۔ایف بی آر کا دھندا شامل نہ ہو۔ آپ کرپشن کی جانب کیوں دھکیلنا چاہتے ہیں؟۔ ایف بی آر سے ہمیں 1300ارب روپے بچا کردیا جائے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں گئے گزرے حالات میں بھی صلاحیت موجود ہے، ایک محکمے کی کرپشن کم ہوتو بجلی کے بل بہت زیادہ کم ہوسکتے ہیں۔
یہ جال پورے پاکستان کو برباد کررہا ہے، حافظ نعیم الرحمان جو محکمہ اٹھا کر دیکھ لیں میں کرپشن نظر آتی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں میں غم و غصہ ہے۔ ہمارے مطالبات جائز ہیں یہ 25 کروڑ عوام کے مطالبات ہیں ہمارا مطالبہ بجلی کے بلوں میں کمی اور آئی پی پیز کو لگام دینے کا ہے۔تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ آٹا، دال، اسٹیشنری پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے، جاگیرداروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
جماعت اسلامی کے تحت لیاقت باغ چوک پر جاری احتجاجی دھرنے کا آج مسلسل 14 واں روز ہے۔ دھرنے میں شریک جماعت اسلامی کے ملک بھر سے آنے والے کارکنان، تاجروں سمیت دیگر تنظیموں سے وابستہ افراد اور مختلف شہروں سے ٹولیوں اور قافلوں کی شکل میں مزید پہنچنے والے افراد نے احتجاجی دھرنے میں اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ دھرنے میں شریک افراد کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔
جماعت اسلامی اپنے مطالبات کیلئے آج حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں مری روڈ کی جانب مارچ کرے گی۔آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں، بے جا ٹیکسز، بجلی کے بھاری بلز، پیٹرول اور گیس کی قیمتوں، مہنگائی سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے جماعت اسلامی کے راولپنڈی دھرنے کے علاوہ کراچی میں گورنر ہاوس پر بھی دھرنا جاری ہے جس کے بعد اب پشاور میں بھی12 اگست کو دھرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔



