اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ آئین کو معطل کرکے دیا گیا، لیکن پارلیمان نے آج سپرمیسی ثابت کردی، انصاف کرنے والوں سے پوچھنا چاہیے لاڈلے جیسی سہولتیں باقی قیدیوں کو بھی دستیاب ہوں گی؟ انہوں نے ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ آئین کو معطل کرکے دیا گیا۔
آج اس بات پر اطمینان ہے کہ پارلیمان نے اپنی سپرمیسی ثابت کی، مخصوص نشستوں کے فیصلے کی آڑ میں ہونے والی فلور کراسنگ کا دروازہ بند کرکے آئین ری رائٹ کرنے والوں کو بھی پیغام دے دیا کہ آپ کا کام آئین بنانا نہیں ہے آئین کی تشریح کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاڈلے کی سہولت کاری کا جو سلسلہ بلینکٹ ضمانتوں سے شروع ہوا، وہ مرسڈیز کے ذریعے ججز گیٹ آمد پھر گڈ ٹو سی یو سے ہوتا ہوا جیل میں ایکسرسائز مشینوں تک پہنچا، آج تو فریج کی ڈیمانڈ بھی آنًن فانًن پوری کر دی گئی۔
انصاف کرنے والوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ سہولتیں باقی قیدیوں کو بھی دستیاب ہوں گی؟ دوسری جانب قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی الیکشن ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ منگل کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ہواجس میں لیگی سینیٹر میں طلال چوہدری نے اضافی ایجنڈا پیش کرنے کی اجازت مانگی جو دے دی گئی اس دور ان اپوزیشن نے اضافی ایجنڈے کے خلاف شدید احتجاج کیا جس کے بعد طلال چویدری نے الیکشن ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا ۔
قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ووٹ سے لوگ ایوان میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ صاف و شفاف الیکشن کرائے ۔ الیکشن کمیشن نے 90 دن میں الیکشن نہیں کرائے اور آئین کو توڑا گیا ۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب کیا مگر فارم 45 میں کامیاب کو فارم 47 میں ہرایا گیا۔



