اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) اسلام آباد ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی سنٹرل سیکریٹریٹ فوری کھولنے کا حکم ۔ تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے کی جانب سے چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں واقع مرکزی سیکرٹریٹ کو سیل کیے جانے کے معاملے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تحریک انصاف اپنا مرکزی دفتر کھلوانے کیلئے عدالت میں بڑی قانونی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کا مرکزی سیکریٹریٹ فوری کھولنے کا حکم دے دیا۔ منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹریٹ سیل کرنے کے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے تحریک انصاف کی درخوست پر سماعت کی۔ جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے استفسار کیا کہ کیا عمارت سیل کرنے سے پہلے نوٹس جاری کیا گیا تھا؟ جس پر میٹروپولیٹن کارپوریشن کے وکیل نے 2017 اور 2018 کے پبلک نوٹسز عدالت میں پیش کر دیے۔ وکیل میٹروپولیٹن کا کہنا تھا کہ سیکرٹریٹ کو صبح نوٹس جاری کیا گیا اور دوپہر میں جا کر عمارت سیل کی گئی، جس پر جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے پوچھا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نے تین گھنٹے کا ہنگامی نوٹس دے کر عمارت سیل کردی؟ ایسی کیا ہنگامی صورتحال تھی اُس متعلق بتائیں۔ وکیل میٹروپولیٹن کارپوریشن نے عدالت کو بتایا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن بغیر نوٹس بھی بلڈنگ سیل کر سکتا ہے، پہلے بھی بلڈنگز ایسے سیل کی جاتی رہیں، پھر متعلقہ شخص ہم سے رابطہ کر لیتا ہے، جس پر جسٹس ثمن رفعت نے ریمارکس دیے کہ اگر غلط طور پر ایسا ہوتا رہا تو یہ مطلب نہیں کہ اس کیس میں بھی درست ہو جائے گا۔ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا مزید کہنا تھا کہ اگر اُن لوگوں نے عدالت سے رجوع نہیں کیا تو اِس کا جواز نہیں بنایا جا سکتا، جو ریگولیشنز ہیں اُن پر عملدرآمد کے بعد ہی کارروائی کی جا سکتی ہے، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ نے اچانک بیٹھ کر طے کیا اور جا کر عمارت سیل کر دی۔ جسٹس ثمن رفعت کا کہنا تھا کہ اُس کے لیے کسی نے اجازت دی ہو گی طریقہ کار پر عملدرآمد کیا گیا ہو گا، 2017 اور 18 کے پبلک نوٹس دکھا رہے ہیں اور 2024 میں عمارت سیل کر رہے ہیں۔ وکیل میٹروپولیٹن کارپوریشن نے مؤقف اپنایا کہ یہ اب بھی مطلوبہ حفاظتی اقدامات کر دیں تو ہم بلڈنگ ڈی سیل کر دیں گے۔ جسٹس ثمن رفعت نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کیا کہ آپ نے رٹ دائر کر دی لیکن حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے؟ جن حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی سامنے لائی گئی عدالت اُن پر آنکھیں بند تو نہیں کر سکتی۔ لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت آفس ڈی سیل کرنے کا حکم دے، ہم 15 دن میں یہ اقدامات کر دیں گے، جس پر جسٹس ثمن رفعت نے استفسار کیا کہ ان 15 دن میں کوئی واقعہ ہو جائے تو؟ یہ عدالت اپنے کندھوں پر یہ بوجھ نہیں لے گی۔ جسٹس ثمن رفعت نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں، میرا خیال ہے آپ آپس میں بیٹھ کر بھی اسے حل کر سکتے ہیں۔ عدالت نے سردار لطیف کھوسہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے وکیل کو مشاورت سے معاملہ حل کرنے کی ہدایت کر دی، جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ہدایت دی کہ آپ لوگ بیٹھ کر مشاورت کریں اور پھر ہنگامی چیزیں عدالت کو بتائیں۔ بعد ازاں عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ منگل کی شام کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا گیا۔ عدالت فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک اںساف کو عمارت میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی انتظامات کرنا ہوں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے کا پی ٹی آئی آفس سیل کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے فیصلے میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی ، سی ڈی اے حکام سے 10 قسم کے انتظامات کرنے پر متفق ہوئی ہے۔ عدالت نے ایک ہفتے میں تحریک اںصاف کو دفتر میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی انتظامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے سی ڈی اے سے اتفاق کیا کہ وہ آگ بجھانے کے آلہ جات ہر فلور پر نصب کریں گے۔ پی ٹی آئی چھت پر فائر پمپ ، الگ سے پانی کا ٹینک، مینول الارم سسٹم لگائے گی۔ عمارت کے کچن کی حفاظت کے لئے گیس ڈیٹیکٹر اور ایمرجنسی نمبر آویزاں کئے جائیں گے، عمارت میں بجلی کی باقاعدہ وائرنگ کرائی جائے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی سنٹرل سیکریٹریٹ فوری کھولنے کا حکم



