اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءشبلی فراز کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی طور پر بڑا عدم استحکام ہے،بجلی کے مسئلے اور مہنگائی نے عوام کی کمرتوڑ دی ہے،ہم جماعت اسلامی کے دھرنے کو سپورٹ کرتے ہیں، مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے اور ممکن ہے جماعت اسلامی کو عملی طور پر سپورٹ کیا جائے۔جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماءپی ٹی آئی نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔
جماعت اسلامی نے اپنا دھرنا جائز مطالبات کیلئے دیا ہوا ہے ۔ حکومت نے قوم کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے ۔ بجلی کے بلوں کی وجہ سے لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس حکومت کی کوئی سیاست حیثیت نہیں ہے ۔
یہ فارم 47کے تحت بننے والی حکومت ہے ان کے فیصلوں کی کوئی وقت نہیں ہے ۔ یہ کبھی 9 مئی اور کبھی دفعہ 144 کے پیچھے چھپ کر سیاست کرتے ہیں۔
عوام مہنگائی کی چکی میں پس گئے ہیں ۔واضح رہے کہ اس سے قبل آج انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ توڑ پھوڑ کیس میںپی ٹی آئی رہنماؤں شبلی فراز، عمر ایوب ودیگر کی ضمانت کنفرم کر دی تھی۔انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ توڑ پھوڑ کیس کی سماعت کی تھی پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان و دیگر وکلا عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ عمر ایوب، شبلی فراز، امجد نیازی، علی نواز اعوان و دیگر پی ٹی آئی کارکنان بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے تھے۔
وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ کچھ ملزمان آج پیش نہیں ہو سکے۔گزارش ہے جو آئے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کر دیں۔جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ علی امین گنڈا پور پیش نہیں ہوئے ان کے حوالے سے کوئی اطلاع آئی ہے کہ پیش ہوں گے یا نہیں۔ پی ٹی آئی وکلا نے جواب دیا کہ ہم کنفرم کر کے عدالت کو آگاہ کرتے ہیں۔جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیئے کہ سب ملزمان ایک ہی سٹیج پر کھڑے ہیں۔
ضمانت کی درخواستیں خارج ہوں گی تو سب کی ساتھ خارج ہوں گی، سب درخواستوں کا ایک ساتھ ہی فیصلہ کریں گے۔سماعت کے دوران علی امین گنڈا پور کے وکیل راجہ ظہور عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہ کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ راجہ ظہور ایڈووکیٹ نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کرم شہر گئے ہوئے ہیں ادھر کے حالات خراب ہیں۔جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی وکلا کو ہدایت کی کہ جن عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ عدالت کو فراہم کر دیں۔ عدالت نے علی امین گنڈا پور کی غیر حاضری کے باعث سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کر دی۔



