راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) حکومت پنجاب کی جانب سے عدالتی فیسوں اور اسٹامپ ڈیوٹی میں پانچ سو سے ایک ہزار اضافہ کو وکلا نے مسترد کر دیا ۔بارکونسل کی مکمل ہڑتال عدالتی امور کا بائیکاٹ ،سینکڑوں مقدمات کی سماعت بائیکاٹ کی وجہ سے نہ ہو سکی سائلین رل گئے تفصیلات کیمطابق پنجاب حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں عدالتی فیسوں اور اسٹامپ ڈیوٹی میں 500 سے 1ہزار گنا اضافے کے خلاف جمعہ کے روز ضلع کچہری راولپنڈی میں مکمل ہڑتال کی گئی وکلا نے عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا اور وکلا عدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس سے سنگین نوعیت کے مقدمات سمیت سینکڑوں مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی وکلا ہڑتال کے باعث دور دراز سے آنے والے سائلین کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا اس موقع پر راولپنڈی ڈویژن سے پنجاب بار کونسل کے اراکین اسد عباسی، بشارت اللہ خان، توفیق آصف، چوہدری آصف لکھن، اشفاق کھوٹ، فرخ بھٹی، راجہ ظفر اقبال اور سردار حبیب انور نے کہا کہ کورٹ فیس ایکٹ میں فنانس بل کے ذریعے ہونے والی ترامیم کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں فیسوں میں ہزارہا گنا اضافے سے لوگوں کی انصاف تک رسائی ناممکن ہو گئی ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی صریحا خلاف ورزی ھے مسائل میں گھری عوام پر کورٹ فیس کا نیا شیڈول بم بن کر گرا ہے دو روپے کے ٹکٹ فیس 500 روپے تک بڑھا دی گئی عدالتی چارہ جو کے لئے لازمی فیس میں کی ہزار گناہ اضافہ کر دیا گیا ہے اس ظلم کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ہر فورم پر بھر پور آواز اٹھائیں گے انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس محترمہ عالیہ نیلم اس مسئلہ پر فوری نوٹس لیں جس طرح دیگر اہم امور پر انہوں نے بروقت کاروائیاں اور اقدامات کئے ہیں ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے صدر سید انتظار مہدی شاہ اور سیکریٹری راجہ شاہد ظفر نے کہا کہ عدالتی فیسوں میں ہوشربا اضافے نے سستے اور آسان انصاف کے حکومتی دعوں کو غلط ثابت کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ وکلا برادری اضافے کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ فیسوں کا پرانا شیڈول فی الفور بحال کیا جائے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے صدر ملک جواد خالد نے عدالتی فیسوں میں یکدم ہو شربا اضافے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی چارہ جوئی کوئی شوقیہ عمل نہیں بلکہ مظلوم افراد کو انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور مظلوم عوام کے حقوق کا تحفظ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت جب پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی نے غریب کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں حکومت کو عوامی ریلیف کے اقدامات اٹھانے چاہئیں انہوں نے کہا کہ چونکہ اس فیصلے سے براہ راست عام آدمی متاثر ہو گالہذا اس اضافے کے نفاذ سے قبل پنجاب اسمبلی سے منظوری لینا لازمی تھا انہوں نے اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فی الفور پرانی فیسیں بحال کرے۔
وکلاء نے پنجاب حکومت کی جانب سے عدالتی فیسوں اور اسٹامپ ڈیوٹی میں پانچ سو سے ایک ہزار اضافہ مسترد کر دیا



