اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) عدالت نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس میں جیل ٹرائل کالعدم قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کیس میں جیل ٹرائل کی تمام کارروائی کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے دیا، اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے فواد چوہدری کی درخواست پر فیصلہ سنایا، جس میں عدالت نے جیل ٹرائل کا آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے فواد چوہدری پر اڈیالہ جیل میں عائد کی جانے والی فرد جرم بھی کالعدم قرار دیدی۔
بتایا جارہا ہے کہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے توہین الیکشن کمیشن کیس کا جیل ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، اس حوالے سے فواد چوہدری نے فیصل چوہدری ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جیل ٹرائل رکھ کر اختیارات کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، جیل ٹرائل سے درخواست گزار کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہورہے ہیں۔
فواد چوہدری کی درخواست میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف اوپن کورٹ ٹرائل ہونا چاہیے، درخواست گزار کے خلاف اوپن ٹرائل الیکشن کمیشن کے احاطے میں ہی ہونا چاہیئے، اس لیے عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ فواد چوہدری کے خلاف جیل ٹرائل روکنے کا حکم دیا جائے، اس کے علاوہ عدالت درخواست گزار کو ہر سماعت پر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی بھی ہدایت کرے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے اگست 2022ء میں سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وفاقی وزراء اسد عمر اور فواد چوہدری کو مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور متعدد انٹرویوز کے دوران الزمات عائد کرنے پر الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کی توہین کا نوٹس جاری کیا تھا، اس کیس کی متعدد سماعتوں کے بعد رواں برس 3 جنوری کو توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری پر اڈیالہ جیل میں ٹرائل مکمل ہونے پر فرد جرم عائد کردی گئی تھی۔



