اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے پر اتفاق کر لیا۔کمیٹی نے ججز کی تعداد بڑھانے کے لئے کیسز اور دیگر تفصیلات طلب کر لیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت قانون و انصاف کے تفصیلات پیش کرنے پر سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کا طے ہو گا، سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد کتنی ہو گی یہ کمیٹی طے کرے گی۔ و سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔فاقی وزیر قانون نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کے تقرری پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں عام مقدمات کی سماعت متاثر ہو رہی ہے۔سینیٹر حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود اور بار نے بھی ہمیشہ ایڈہاک تقرریوں کی مخالفت کی، اس پر سینیٹر ضمیر نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ پر کام کے دبا کی وجہ سے ججز کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے، ججز کی تعیناتی میں صوبوں کی نمائندگی کا بھی خیال رکھا جائے۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس سے کیسز کی تفصیل منگوا کر دیکھ لوں تو پھر بحث کر سکتے ہیں، سینیٹر انوشے رحمن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آئینی عدالت کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں ہے، ججز کی نشستیں بڑھانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ مقدمات کی سماعت میں تاخیر کے کئی عوامل ہیں، مقدمات کی سماعت میں تاخیر کا مسئلہ ججز کی کمی کی وجہ سے ہے، کسی جج کی صلاحیت میں کمی نہیں ہے، عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، عوام کا حق ہے کہ ان کے مقدمات کی بر وقت سماعت ہو۔اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ایسے مقدمات جو سیاسی ہوں ان کی سماعت ایک بجے کے بعد ہوا کرے، سیاسی اور آئینی معاملات کی سماعت کے لیے الگ عدالت ہونی چاہیے۔اس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کے باوجود مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیسز کا بوجھ بڑھا مگر ججز وہی 17 ہیں۔سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ابھی بھی 4 ایڈہاک ججز کی تجویز آئی ہے، ججز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت کا منہ بولتا ثبوت 4 ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی تجویز ہے، انوشہ رحمان نے کہا کہ جنوری 2023 سے بل زیر التوا ہے مگر ججز کتنے چاہئیں یہ نمبر دیکھ لینا چاہئے، وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ کیا پتہ 24 ججز سپریم کورٹ میں درکار ہوں۔سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کا بل آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا، وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں کہہ چکا ہوں کہ کوڈ آف کنڈکٹ پر سپریم کورٹ نظرثانی کرے، ایک عدالت کے تمام ججز کی مراعات برابر ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ ایک عدالت کا جج کئی سو کیسز نمٹا جاتا ہے مگر دوسری عدالت کا جج اپنے مزاج کی وجہ سے چند کیسز نمٹاتا ہے، کیا وجہ ہے کہ کچھ بھی کرکے ہمارے زیر التوا کیسز کم نہیں ہو رہے، آرٹیکل 184 تھری کا کیسا استعمال ہوتا رہا ہم نے دیکھا۔انہوں نے مزید کہا کہ بار کونسلز کی تجویز ہے کہ آرٹیکل 184 تین کے مقدمات کی سماعت سینئر ترین 5 ججز ہی کریں۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے پر اتفاق



