اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کا معاملہ جب اسپیکر کے پاس آئے گا تو عملدرآمد کا فیصلہ کریں گے،سنی اتحاد کونسل کی تشریح پی ٹی آئی کیسے ہوسکتی ہے؟ امید ہے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جلد آجائے گا، 2023 میں بھی سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ تھا اس پر بھی عملدرآمد ممکن نہیں تھا تو نہیں کیا گیا تھا۔
انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے، وہ اپنا فیصلہ کرنے میں بالکل آزاد ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ابہام ہے تو سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں، جب معاملہ حکومت ، پارلیمنٹ یا اسپیکر کے پاس آئے گا تو وہ بھی اس معاملے کا جائزہ لیں گے، اور دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔
سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جلد بلکہ 15دنوں کے اندر آجائے گا معزز ججز کو بھی ادراک ہوگا کہ فیصلے سے متاثرہ فریق کو اپیل کا موقع ملنا چاہیئے۔
اگر 15دنوں میں تفصیلی فیصلہ نہیں آتا تو اس پر لیگل ٹیم اپنی رائے دے سکتی ہے، پھر اس کو مدنظر رکھ کر عملدرآمد کیا جائے گا۔ اسپیکر کے سامنے جب مخصوص ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا معاملہ آئے گا تو پھر وہ بھی اس کو دیکھیں گے۔ فیصل واوڈا کی پیشگوئی ٹھیک ہوئی بھی ہے نہیں بھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا دوٹوک مئوقف ہے کہ فیصلے پر آئین کا تحفظ کریں گے، آئین ایک بات کرتا ہے تو ادارہ دوسری بات کرتا تو ہم آئین کو دیکھیں گے۔
سپریم کورٹ نے جب آئین میں ترمیم کا اختیار ایک ڈکٹیٹر کو دیا تھا تو وہ آئینی فیصلہ تھا؟ سپریم کورٹ نے جب ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کا فیصلہ دیا تھا، مارشل لاء کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا تھا تو وہ آئینی فیصلہ تھا، اس وقت بھی لوگ ان فیصلوں کے خلاف کھڑے تھے، بعد میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ہمارے فیصلے غلط تھے۔ آئین کی تشریح کرکے آئینی کی روح کے خلاف جانا ٹھیک نہیں ، سنی اتحاد کونسل کی تشریح پی ٹی آئی کیسے ہوسکتی ہے؟2023میں بھی سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا تھا جو آئین کے خلاف تھا، اس پر عملدرآمد ممکن نہیں تھا تو عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا۔



